صوبائی محتسب کا چوری شدہ گاڑیوں کی تصدیق سے متعلق تاریخی فیصلہ

صوبائی محتسب کا چوری شدہ گاڑیوں کی تصدیق سے متعلق تاریخی فیصلہ

کراچی (رپورٹر) صوبائی محتسب سندھ محمد سہیل راجپوت نے عوام کے مفاد میں تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ چوری شدہ گاڑیوں کی برآمدگی کے بعد سی پی ایل سی کی آن لائن اور ٹیلیفون کے ذریعے تصدیق میں ریکارڈ کی غلطی کو قانون کے خلاف اور فروخت کنندہ کے لیے نقصان دہ قرار دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گاڑی کی تصدیق کے دونوں طریقوں میں یکسانیت نہ ہونے کے باعث گاڑی کی فروخت کے وقت اس کی قیمت کم لگائی جاتی ہے، جو فروخت کنندہ کے لیے مالی نقصان کے ساتھ ذہنی اذیت کا سبب بھی بنتی ہے، جبکہ یہ سارا عمل گاڑی کی قانونی حیثیت کو بھی مشکوک بنا دیتا ہے۔ مزید کہا گیا کہ جب چوری شدہ گاڑی برآمد ہو جائے اور تمام قانونی تقاضے پورے ہو جائیں تو سی پی ایل سی کو تصدیقی عمل کے دوران گاڑی کو مکمل طور پر "کلئیر" ظاہر کرنا چاہیے اور PLD 2026 لاہور 84 کے فیصلے اور عالمی رائج طریقوں کے مطابق اپنے ایس او پیز پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ صوبائی محتسب سندھ نے سی پی ایل سی کو ہدایت کی ہے کہ وہ 45 دن کے اندر احکامات پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ پیش کرے۔ یہ فیصلہ شکایت کنندہ محمد علی لاشاری کی درخواست پر سنایا گیا۔