روس اور ایران عالمی معیشت کو “ہائی جیک” کرنا چاہتے ہیں: برطانوی وزیر خارجہ

روس اور ایران عالمی معیشت کو “ہائی جیک” کرنا چاہتے ہیں: برطانوی وزیر خارجہ

ریاض (ویب ڈیسک) برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ روس اور ایران عالمی معیشت کو “ہائی جیک” کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر نے کہا کہ روس اور ایران عالمی معیشت کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز میں حملوں کے باعث بحری ٹریفک محدود ہو گئی ہے۔ واضح رہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعرات کو کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کے قریب سے گزرنے والے بحری جہازوں کی نقل و حرکت روکی جائے گی، جبکہ امریکہ نے روسی تیل کی خریداری پر عائد پابندیوں میں عارضی نرمی کا اعلان کیا تھا۔ یوویٹ کوپر نے کہا کہ روس اور ایران کے تعلقات طویل عرصے سے قائم ہیں اور دونوں ممالک کے رویوں اور حربوں میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ دونوں ریاستیں ایک دوسرے کی مدد اور مشترکہ فائدے کے لیے کام کر رہی ہیں تاکہ عالمی معیشت کو ہائی جیک کیا جا سکے۔ یوویٹ کوپر نے سعودی عرب کے صحرا میں برطانوی فوج کی ایئر ڈیفنس یونٹ کا دورہ بھی کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رائل آرٹلری کے فوجیوں کا یہ دستہ سعودی عرب اور خلیجی عرب اتحادی ممالک کے لیے برطانیہ کے جاری دفاعی عزم کا حصہ ہے۔ واضح رہے کہ یہ تعیناتی، جسے “آپریشن کراس ویز” کا نام دیا گیا ہے، 2022 میں شروع ہوئی تھی، تاہم ایران کی جانب سے روزانہ ڈرون، کروز اور بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ ریاض میں برطانیہ کے دفاعی اتاشی بریگیڈیئر بین وائلڈ کے مطابق ایران بنیادی طور پر خطے میں موجود امریکی افواج کو نشانہ بنا رہا ہے، برطانوی فوجیوں کو نہیں، اور ساتھ ہی اقتصادی اہداف کو بھی ہدف بنایا جا رہا ہے۔