ایگزام بنک اور پی ایس ڈبلیو پاکستانی برآمدات بڑھانے پر متفق

تجارتی مالی معاونت کے فروغ اور دیگر خدمات کی بہتری کےلئے یادداشت پر دستخط

ایگزام بنک اور پی ایس ڈبلیو پاکستانی برآمدات بڑھانے پر متفق

اسلام آباد(کامرس رپورٹر)ایکسپورٹ امپورٹ بنک آف پاکستان (پاک ایگزام) اور پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوگئے جس کے تحت دونوں ادارے تجارتی مالی معاونت کو فروغ دینے اور برآمدات میں اضافے کے لیے تعاون کرینگے۔معاہدے کے تحت پاک ایگزم، پی ایس ڈبلیو کے قومی ڈیجیٹل تجارتی انفرااسٹریکچر کو تصدیق شدہ تجارتی ڈیٹا کے ذریعے استعمال کرے گا تاکہ اپنی ایکسپورٹ کریڈٹ انشورنس مصنوعات، حکومت کی جانب سے چلائی جانے والی ایکسپورٹ فنانس اسکیموں اور دیگر مالیاتی خدمات کے لیے رسک اسیسمنٹ اور انڈر رائٹنگ کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ تجارتی ڈیٹا کو سرکاری کریڈٹ نظام سے منسلک کرنے سے خطرات کے جائزے میں بہتری، پراسیسنگ میں تیزی، اور برآمد کنندگان کے لیے مالی سہولیات تک رسائی میں اضافہ متوقع ہے۔اس موقع پر پی ایس ڈبلیو کے سی ای او سید آفتاب حیدر نے کہا کہ یہ شراکت داری ڈیجیٹل تجارتی اصلاحات کے اگلے مرحلے کی عکاس ہے، جہاں تجارتی سہولت کاری اور تجارتی مالیاتی نظام ایک دوسرے سے جڑتے جا رہے ہیں۔ تصدیق شدہ تجارتی ڈیٹا کے استعمال سے معلومات کے فرق میں کمی، شفافیت میں اضافہ اور برآمد کنندگان کو بروقت مالی سہولیات کی فراہمی ممکن ہوگی۔ پاک ایگزم کے صدر و سی ای او شہبازحسین سید نے کہا کہ پاکستان کے سرکاری ایکسپورٹ کریڈٹ ادارے کی حیثیت سے پاک ایگزم برآمد کنندگان کے لیے معاونت کو مضبوط بنانے کے لیے ادارہ جاتی شراکت داریوں کو وسعت دے رہا ہے۔ پی ایس ڈبلیو کے ڈیجیٹل تجارتی ڈیٹا پلیٹ فارم تک رسائی ہماری تجزیاتی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گی اور مؤثر و بہتر فیصلوں میں مددگار ثابت ہوگی۔مفاہمتی یادداشت کی اہم بات ہےکہ یہ اشتراک خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کو درپیش تجارتی مالی مشکلات کم کرنے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ایسے اداروں کو اکثر روایتی ضمانتوں اور دستاویزی تقاضوں کو پورا کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔پی ایس ڈبلیو کے ذریعے دستیاب ٹرانزیکشن سطح کے تجارتی ڈیٹا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاک ایگزم زیادہ مؤثر اور شواہد پر مبنی کریڈٹ اسیسمنٹ نظام اختیار کر سکے گا۔یہ مفاہمتی یادداشت تجارت کے ضابطہ جاتی نظام اور تجارتی مالیات کو ایک مربوط ڈیجیٹل فریم ورک میں لانے کی جانب اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ دستی عمل پر انحصار کم ہونے اور ڈیٹا کے بہتر تبادلے سے شفافیت، آپریشنل کارکردگی اور برآمدی شعبے کی مضبوطی میں مزید بہتری متوقع ہے۔