کراچی پریس کلب کے سامنے جونیئر سائنس ٹیچر امیدواروں کا دھرنا تیسرے روز بھی جاری

کراچی پریس کلب کے سامنے جونیئر سائنس ٹیچر امیدواروں کا دھرنا تیسرے روز بھی جاری

کراچی: جونیئر سائنس ٹیچر 2026 کے ٹیسٹ میں کامیاب ہونے والے فریش گریجویٹ امیدواروں کا احتجاجی دھرنا آج تیسرے روز بھی کراچی پریس کلب کے سامنے جاری رہا۔ امیدواروں کا کہنا ہے کہ 2021 کے بعد سندھ کے فریش گریجویٹ نوجوانوں کے لیے محکمہ تعلیم میں روزگار حاصل کرنے کا یہ پہلا اہم موقع ہے، مگر افسوس کہ پوری سندھ کے لیے صرف 1237 نشستیں مختص کی گئی ہیں، جو ہزاروں قابل اور اہل امیدواروں کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں۔ امیدواروں کا کہنا تھا کہ نشستوں کی محدود تعداد کے باعث ہزاروں فریش گریجویٹ نوجوان مایوسی کا شکار ہیں، اسی لیے ان کا احتجاج اب باقاعدہ دھرنے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ احتجاج کرنے والے امیدواروں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نوجوانوں کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے جے ایس ٹی کی نشستوں میں فوری اضافہ کیا جائے۔ امیدواروں نے مطالبہ کیا کہ بجٹ سے قبل نئی ایس این اے کے ذریعے جونیئر سائنس ٹیچر کی مزید آسامیاں منظور کرکے نشستوں میں فوری اضافہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ ایلیمنٹری، مڈل، ہائی اور اپ گریڈ کیے گئے تمام اسکولوں میں جونیئر سائنس ٹیچر کی مستقل نشست مختص کی جائے۔ پاسنگ مارکس اور کٹ آف میں نرمی کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ اہل اور قابل امیدواروں کو میرٹ کی بنیاد پر روزگار کا موقع مل سکے۔ امیدواروں نے واضح کیا ہے کہ اپنے جائز مطالبات کی منظوری تک کراچی پریس کلب کے سامنے ان کا پُرامن دھرنا جاری رہے گا اور احتجاج کا دائرہ بڑھانے کے آپشنز بھی زیر غور ہیں۔