وفاقی حکومت کی جانب سے 18 ہزار 771 ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش، تعلیم کے لیے 46 ارب اور دفاع کے لیے 3 ہزار ارب مختص

وفاقی حکومت کی جانب سے 18 ہزار 771 ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش، تعلیم کے لیے 46 ارب اور دفاع کے لیے 3 ہزار ارب مختص

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے 18 ہزار 771 ارب 10 کروڑ روپے کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا ہے۔ وفاقی بجٹ کا کل تخمینہ 18 ہزار 771 ارب 10 کروڑ روپے رکھا گیا ہے، جبکہ ملک کے دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حکومت قرضوں اور سود کی ادائیگی کی مد میں 8 ہزار 5 ارب 40 کروڑ روپے خرچ کرے گی، جبکہ پنشن کی ادائیگیوں کے لیے ایک ہزار 16 ارب 90 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
سرکاری ملازمین اور تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف
وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں بھی 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 22 لاکھ سے 70 لاکھ روپے سالانہ آمدنی رکھنے والوں کے لیے انکم ٹیکس کی شرح میں 3 سے 6 فیصد تک کمی کی گئی ہے۔
ٹیکس میں تبدیلیاں اور سپر ٹیکس
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لیے 15 ہزار 264 ارب 40 کروڑ روپے کی ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ پراپرٹی کی منتقلی پر ودہولڈنگ ٹیکس کو مناسب بنانے کے لیے فائلرز کے لیے خریداری پر ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد اور فروخت پر 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدنی پر سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔
اقتصادی اہداف اور ترقیاتی منصوبے
آئندہ مالی سال کے لیے 4 فیصد شرح نمو (جی ڈی پی) اور 8.2 فیصد مہنگائی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے ایک ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اہم منصوبوں میں کراچی-کوئٹہ شاہراہ کے لیے 100 ارب، سکھر-حیدرآباد موٹروے کے لیے 30 ارب، اور مہمند و داسو ڈیم کے لیے 21، 21 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
بین الاقوامی ٹرانزیکشنز اور گاڑیوں پر ٹیکس
بینکوں کے کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے بیرونِ ملک کی جانے والی ادائیگیوں پر ودہولڈنگ ٹیکس 5 فیصد سے کم کر کے 0.5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ آٹو سیکٹر میں 2000 سے 3000 سی سی کی درآمدی ایس یو ویز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی نافذ کی گئی ہے، جبکہ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی نظام برقرار رہے گا۔
سماجی بہبود اور خواتین کی صحت
سماجی بہبود کے شعبے میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دائرہ ایک کروڑ 20 لاکھ افراد تک بڑھایا جائے گا۔ خواتین کی صحت کے لیے سینیٹری پیڈز اور مانع حمل ادویات پر ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ تعلیم کے لیے 46 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔