متحدہ عرب امارات دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے ہارمون تھراپی کے خلاف مزاحمت کرنے والے بریسٹ کینسر کے کیسز کے لیے نئی زبانی دوا ’’اکتیما‘‘ کی منظوری دے دی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ دوا ایڈوانس یا جسم کے دیگر حصوں تک پھیل جانے والے بریسٹ کینسر کی ایک مخصوص قسم کے مریضوں کے لیے نئی امید ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر اُن افراد کے لیے جن کے ٹیومرز نے ہارمون تھراپی کا جواب دینا بند کر دیا ہو۔
رپورٹ کے مطابق ایسی جینیاتی تبدیلی اُن مریضوں میں ظاہر ہو سکتی ہے جو پہلے ہی اینڈوکرائن (ہارمون) تھراپی کے زیرِ علاج ہوں۔
رپورٹ کے مطابق ’’اکتیما‘‘ بریسٹ کینسر کے خلیات میں موجود ایسٹروجن ریسیپٹرز کو بلاک اور ختم کر کے کام کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض ٹیومرز میں یہ ریسیپٹرز ایندھن کے سوئچ کی طرح کام کرتے ہیں، جو کینسر کی بڑھوتری اور پھیلاؤ کو تیز کرتے ہیں۔ یہ دوا ان ریسیپٹرز کو غیر فعال بنا کر کینسر کی نشوونما کے لیے ضروری سگنلز کو روکنے میں مدد دیتی ہے، جس سے بیماری پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔
0 تبصرے