اوپن یونیورسٹی میں اسلام کے فلسفہ سیاست پر علمی سیمینار، کتاب کی تقریب رونمائی

ریاست مدینہ اسلام کے فلسفہ سیاست کی عملی اور تاریخی مثال ہے۔مجید مشکی

اوپن یونیورسٹی میں اسلام کے فلسفہ سیاست پر علمی سیمینار، کتاب کی تقریب رونمائی

اسلام آباد: علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے مجلسِ فکر و ادب نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ثقافتی قونصل خانے کے تعاون سے ''اسلام کا فلسفہ سیاست'' کے عنوان پر ایک علمی سیمینار اور اسی موضوع پر شائع ہونے والی کتاب کی تقریبِ رونمائی کا انعقاد کیا۔ تقریب کی صدارت کلیہ عربی و علومِ اسلامیہ کے ڈین، پروفیسر ڈاکٹر شاہ محی الدین ہاشمی نے کی جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ثقافتی قونصلر مجید مشکی مہمانِ خصوصی تھے۔سیمینار میں معروف دانشور خورشید ندیم، ماہرِ اقبالیات ڈاکٹر محمد عارف، ڈاکٹر محمد حسنین نادر اور دیگر اہلِ علم نے شرکت کی جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری نے انجام دیے۔ مقررین نے اسلامی سیاسی فکر کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسلام کا فلسفہ سیاست عدل، امانت، مشاورت، انسانی حقوق اور عوامی فلاح کے اصولوں پر استوار ہے، جو ایک متوازن اور منصفانہ معاشرے کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ڈاکٹر شاہ محی الدین ہاشمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام کے فلسفہ سیاست کے حوالے سے ایران کا ایک مخصوص فکری و سیاسی ماڈل موجود ہے جبکہ پاکستان کا آئین بھی اسلامی اجتہاد کی ایک اہم مثال ہے جس میں حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کو تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس موضوع پر علمی مکالمے کو عصرِ حاضر کی اہم ضرورت قرار دیا۔سیمینار کے دوسرے حصے میں ''اسلام کا فلسفہ سیاست'' کے اردو ترجمے کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ ڈاکٹر محمد حسنین نادر نے کیا ہے۔ انہوں نے کتاب کے موضوع، اہمیت اور ترجمے کے مراحل پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ تصنیف اسلامی سیاسی فکر اور حکمرانی کے تصورات کو سمجھنے کے لیے ایک اہم علمی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔معروف دانشور خورشید ندیم نے کتاب کو ایک اہم نصابی اور فکری دستاویز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب ایران کی جامعات میں تدریسی مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی ہے اور اس میں ایران کے سیاسی و فکری تصورِ حکمرانی کی عکاسی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کتاب کو پاکستانی تناظر میں مطالعہ پاکستان کی نصابی کتب سے تشبیہ دی جا سکتی ہے کیونکہ یہ ایران کی فکری و نظریاتی بنیادوں کو واضح کرتی ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر محمد حسنین نادر کو عمدہ اور رواں اردو ترجمے پر مبارکباد بھی پیش کی۔مہمانِ خصوصی، ایرانی ثقافتی قونصلر مجید مشکی نے کہا کہ اسلامی فلسفہ سیاست کی عملی اور تاریخی مثال ریاستِ مدینہ کا قیام ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیرِ بحث کتاب میں اسلامی اور شیعہ سیاسی فکر کے مختلف پہلوؤں اور حکمرانی کے تصورات کو علمی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے مجلسِ فکر و ادب کے پلیٹ فارم سے پاکستان اور ایران کے درمیان علمی و فکری روابط مزید مستحکم ہوں گے۔مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ اہلِ سنت اور اہلِ تشیع دونوں مکاتبِ فکر میں اسلامی سیاسی نظام کے حوالے سے مختلف علمی آراء موجود ہیں تاہم عدل، امانت، انسانی وقار اور فلاحِ عامہ جیسے بنیادی اسلامی اصولوں پر وسیع اتفاق پایا جاتا ہے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ عصرِ حاضر کے سیاسی اور سماجی مسائل کے حل کے لیے اسلامی تعلیمات کا جدید تناظر میں علمی مطالعہ ناگزیر ہے۔