اسلام آباد (ویب ڈیسک): پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کی نجکاری کے پہلے مالی مرحلے کی تکمیل کے بعد قومی ایئرلائن کا انتظامی کنٹرول سرمایہ کار کنسورشیم کے حوالے کر دیا گیا۔
نجکاری کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ کی نجکاری کے تحت شیئرز کی فروخت کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ شیئر پرچیز اینڈ سبسکرپشن معاہدے کی تمام پیشگی شرائط پوری ہونے کے بعد ایئرلائن کا انتظامی کنٹرول عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ کی سربراہی میں قائم سرمایہ کار کنسورشیم کو منتقل کر دیا گیا ہے۔
نجکاری کمیشن نے اس پیش رفت کو حکومت کے معاشی اصلاحاتی پروگرام کی ایک اہم کامیابی قرار دیا ہے۔
بیان کے مطابق معاہدے پر دستخط کے بعد وزارتِ دفاع سمیت متعلقہ اداروں نے متعدد پیچیدہ شرائط مکمل کیں، جن میں ملکی و غیر ملکی ریگولیٹری منظوری، ٹیکس سے متعلق معاملات، طیاروں کی مالی معاونت کے انتظامات اور سرمایہ کار کنسورشیم کی جانب سے مالی ضمانتوں کی فراہمی شامل تھی۔
نجکاری کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات انتہائی کم وقت میں مکمل کیے گئے، جبکہ اس دوران پی آئی اے کی پروازیں، کاروباری سرگرمیاں اور خدمات بغیر کسی تعطل کے جاری رہیں۔
واضح رہے کہ نجکاری کے لیے بولی کا عمل دسمبر 2025 میں مکمل ہوا تھا، جس کے نتیجے میں کنسورشیم نے مجموعی طور پر 180 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا۔
اس رقم میں سے 55 ارب روپے حکومت کو پی آئی اے سی ایل کے حصص کی فروخت کے عوض ادا کیے جائیں گے، جبکہ 125 ارب روپے ایئرلائن کی بہتری، بحالی اور توسیعی منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے۔
بیان کے مطابق کنسورشیم حکومت کو 10 ارب روپے ادا کر چکا ہے، جبکہ 80 ارب روپے نئی سرمایہ کاری کے طور پر ایئرلائن میں شامل کیے گئے ہیں۔ اس سرمایہ کاری کا مقصد پی آئی اے کے مالی استحکام، فضائی بیڑے میں اضافہ، نئے روٹس کے آغاز اور مسافروں کو بہتر خدمات کی فراہمی ہے۔
نجکاری کمیشن کے مطابق معاہدے کا دوسرا مالی مرحلہ آئندہ 12 ماہ کے دوران مکمل کیا جائے گا، جس کے تحت مزید 45 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔
0 تبصرے