بجٹ سمیت سندھ کے وسائل پر پہلا حق سندھ کے عوام کا ہے صوبائی امیر کاشف سعید شیخ کاپریس کانفرنس سے خطاب
کراچی، جماعت اسلامی سندھ نے بدترین لوڈشیڈنگ، مہنگی بجلی اور اووربلنگ کے خلاف جمعہ 3 جولائی کو صوبہ بھرکے400مقامات پر احتجاجی مظاہروں کا اعلان کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئی پی پیز کے مہنگے معاہدے ختم کیے جائیں، بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے اور عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔اگرعوام کو رلیف نہیں دیا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔یہ اعلان امیرجماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ نے قباءآڈیٹوریم میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری عبدالقدوس احمدانی، مولانا آفتاب ملک،معاون خصوصی زاہدحسین راجپر اورسیکرٹری اطلاعات مجاہدچنا ودیگر رہنمابھی ساتھ موجود تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی سے کشمور تک سندھ کے عوام کرپشن، مہنگائی، نہری پانی کی شدید قلت، بدامنی، ڈاکوراج، بجلی و گیس کی طویل لوڈشیڈنگ اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی جیسے سنگین مسائل کا شکار ہیں۔ ملک کو تقریباً 70 فیصد ریونیو، 72 فیصد گیس، 58 فیصد تیل، تھرکول، گرینائٹ، ماربل اور اہم تجارتی بندرگاہیں فراہم کرنے والا صوبہ کے عوام آج بھی صاف پانی، موٹروے اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔بجٹ سمیت سندھ کے وسائل پر پہلا حق سندھ کے عوام کا ہے ۔ سندھ کے تقریباً 78 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں، جبکہ تھرکول سے بجلی پیدا کرنے کے باوجود صوبے کے مختلف علاقوں میں روزانہ 18 سے 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے جوسندھ کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ بجلی اور گیس کی قلت نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، کاروبار تباہ ہو رہے ہیں اور طلبہ کی تعلیم بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ حالیہ دنوں سکھر اور لاڑکانہ ڈویڑن میں معمولی مٹی کے طوفان کے بعد کئی اضلاع میں ایک ہفتے تک بجلی معطل رہی اورعوام سخت اذیت سے دوچاررہے، جبکہ ٹرانسفارمر جلنے کی صورت میں بھی شہری رل جاتے ہیں پھراپنی مدد آپ کے تحت چندہ جمع کرکے انہیں تبدیل کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ظلم تو یہ ہے کہ لائن لاسز اور بجلی چوری کا بوجھ بھی لوڈشیڈنگ اور اضافی بلوں کی صورت میں صارفین پر ڈالا جا رہا ہے، جبکہ کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی جانب سے ناجائز ڈیٹیکشن بلز اور اوار بلنگ کے ذریعے عوام کو مالی مشکلات سے دوچار کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ پاکستان کی مجموعی بجلی پیداوار میں تقریباً 30 سے 35 فیصد حصہ ڈالتا ہے، لیکن اس کے باوجود صوبے کے عوام مہنگی بجلی اور طویل لوڈشیڈنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔ آئی پی پیز کے مہنگے معاہدے، کیپیسٹی چارجز، لائن لاسز اور ڈالر میں ادائیگیوں کی وجہ سے بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کا بوجھ عوام اور صنعتوں دونوں پر پڑ رہا ہے۔مزید بجلی مہنگی کرنے کی بھی تیاریاں کی جارہیں۔ خود نیپرا کے اعداد و شمار کے مطابق آئی پی پیز کو سالانہ تقریباً 3400 ارب روپے کی ادائیگیاں کی جاتی ہیں، جبکہ فی یونٹ اوسط ٹیرف 36 روپے اور کیپیسٹی پیمنٹ تقریباً 18 روپے فی یونٹ وصول کی جاتی ہے۔جماعت اسلامی سندھ نے مطالبہ کیا کہ آئی پی پیز سے مہنگے معاہدے فوری ختم کیے جائیں، بدترین لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے، اووربلنگ بند کی جائے، لائن لاسز اور بجلی چوری کی روک تھام کے لیے مو¿ثر اقدامات کیے جائیں، بیوروکریسی اور سرکاری اداروں میں مفت بجلی کی سہولت ختم کی جائے، جبکہ توانائی کے بحران کے مستقل حل اور سستی بجلی کی فراہمی کے لیے تھرکول اور ونڈ پاور سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیا جائے۔رہنماو¿ں نے کہا کہ 3 جولائی کو ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے جماعت اسلامی کے صوبائی، ضلعی اور مقامی قائدین خطاب کریں گے اور عوام کے مطالبات بھرپور انداز میں حکومت کے سامنے رکھے جائیں گے۔صوبائی امیرنے کھوسکی بدین سے سماجی رہنما اورجماعت اسلامی کی جبری گمشدگی اورپھرمنشیات کے جھوٹے مقدمات میں گرفتاری ظاہرکرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہاکہ پیپلزپارٹی مخالفین کے خلاف انتقامی کاروایوں میں پولیس کوسیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرکے پولیس کی عوام کے اندساکھ ختم کر رہی۔پولیس کو سیاسیت سے پاک کیا جائے ۔ #
0 تبصرے