بے روزگار صحافیوں کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل کیا جائے، امتیاز خان فاران
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی پریس کلب میں مرحوم محمد ناصر استاد کی یاد میں تعزیتی ریفرنس منعقد کیا گیا، جس سے صاحبزادہ فرید الدین قادری، مظہر عباس، ثروت اعجاز قادری، مقصود یوسفی، فاضل جمیلی، احمد شاہ، اے ایچ خانزادہ، محمد علی نور، محمد عثمان بیگ، اخلاق سونی، شید اللہ خان آفاقی، اطہر جاوید صوفی، عارف حسین ہاشمی، سی ای او ڈی این این سید اطہر حسین شاہ، سعید سربازی، محمد جمیل، دارا ظفر اور دیگر نے خطاب کیا۔آل برادری قومی موومنٹ کے چیئرمین اخلاق سونی نے کہا کہ محمد ناصر استاد ایک ملنسار، خوش اخلاق اور مددگار انسان تھے، جو سب کو دکھی کرکے دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی تھی اور انہوں نے کبھی حالات کی سختیوں کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے صحافتی زندگی میں بے شمار مشکلات کا سامنا کیا، مگر ہمیشہ اپنے ساتھیوں کا خیال رکھا۔ جب بھی کسی پروگرام کی کوریج ملتی تو اپنے دیگر ساتھیوں کو بھی ساتھ لے جاتے اور ان کی مدد کرتے تھے۔تعزیتی ریفرنس میں مرحوم کے بھائی عثمان علی بیگ، ڈائریکٹر پریس عبدالماجد خان، بیٹے محمد علی نور، ابوالحسن ، ذوالفقار ،عبدالرحمن، محمد عظیم، شعیب احمد، جنید احمد راجپوت، فاروق راجپوت، جاوید جئے جا، لئیق عالم نواب، اقبال سواتی، نعمان نظامی، تنویر سید، شکیل یامین کانگا، سرفراز عالم، لیاقت کشمیری، فاروق سمیع، سعید قریشی، فضل محمود، وقار چوہان، اسلم فاروقی، ندیم ایڈووکیٹ، یوسف رانا، آصف جئے جا، تیمور ظفر، نصیر احمد اور صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر کے پی سی کے سابق صدر امتیاز خان فاران نے کہا کہ بے روزگار صحافیوں کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل کیا جائے اور تمام یونینز صحافیوں کی فلاح و بہبود کیلئے فنڈز قائم کریں۔ انہوں نے کہا کہ صحافی برادری کو متحد ہوکر حکومت سے اپنے حقوق کیلئے بات کرنا ہوگی۔سینئر صحافی مقصود یوسفی نے کہا کہ مختلف یونینز اور کراچی پریس کلب خاموشی سے صحافیوں کی مالی مدد کرتے رہتے ہیں، تاہم اب وقت آگیا ہے کہ سب ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم محمد ناصر استاد نے پوری زندگی جدوجہد میں گزاری۔ شہر کے خراب حالات میں بھی وہ جائے وقوعہ پر پہنچ کر فوٹوگرافی کرتے رہے اور جونیئر صحافیوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی، اسی لئے سب انہیں محبت سے “ناصر استاد” کہہ کر پکارتے تھے۔
0 تبصرے