پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں سنگاپور مارکیٹ سے منسلک ہیں، وفاقی وزیر پیٹرولیم

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں سنگاپور مارکیٹ سے منسلک ہیں، وفاقی وزیر پیٹرولیم

اسلام آباد (ویب ڈیسک): وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین سنگاپور مارکیٹ میں مقرر ہونے والی قیمتوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں کمیٹی اراکین نے شرکت کی، جبکہ اوگرا کے چیئرمین نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔ اوگرا کے چیئرمین نے بتایا کہ پاکستان میں تیل کی قیمتیں خام تیل کی قیمتوں کی بنیاد پر مقرر نہیں کی جاتیں۔ اگر قیمتوں کا اعلان روزانہ کی بجائے ہفتہ وار یا پندرہ روز بعد کیا جائے تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل پر عائد لیوی آج بھی ان دنوں کے مقابلے میں کم ہے جب جنگ کا آغاز ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں خام تیل سے نہیں بلکہ عالمی منڈی میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے ساتھ منسلک ہیں۔ علی پرویز ملک کے مطابق پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین سنگاپور مارکیٹ کے نرخوں کے مطابق کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی دو سے تین دنوں کے دوران تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی آئی تھی، تاہم گزشتہ دو سے تین دنوں میں بمباری کے بعد قیمتوں میں دوبارہ اضافہ شروع ہو گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان کی قیادت امریکا اور ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔ اگر جنگ بندی ہو جاتی ہے تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے، بصورت دیگر آئی ایم ایف پروگرام کے تحت رہتے ہوئے قیمتوں میں کمی ممکن نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ چند روز میں جنگ نہ رکی تو صوبائی حکومتوں سے مشاورت کے بعد ٹارگٹڈ سبسڈی کا نظام دوبارہ متعارف کرایا جائے گا۔