حیدرآباد ؛ سندھ پبلک سروس کمیشن کے دفتر کے سامنے جاری ’’ٹھنڈی سڑک تحریک‘‘ کا دھرنا نویں روز بھی جاری ہے۔
تحریک کے رہنما فرمان علی نے عوامی آواز ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں محسوس ہو رہا ہے کہ ہم ڈوبنے جا رہے ہیں، اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو سندھ تباہ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ لوگ کروڑوں روپے دے کر ڈی ایس پیز، اسسٹنٹ کمشنرز، انجینئرز اور دیگر عہدوں پر تعینات ہوں گے تو وہ سندھ کا بیڑا غرق کر دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ان کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ معاملے کی فرانزک تحقیقات کرائی جائیں، اور اگر اداروں کے اندر کرپشن یا بے ضابطگیاں ثابت ہوں تو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اگر اداروں میں موجود ’’کالی بھیڑیں‘‘ بے نقاب ہوں تو انہیں سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسی بے ضابطگیوں کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔
فرمان علی نے حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے جائز خدشات کو سنجیدگی سے سنا جائے اور مسئلے کا منصفانہ حل نکالا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنے والے پُرامن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ حالات کسی بھی نامناسب رخ اختیار کریں، اس لیے حکومت کو فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے۔
0 تبصرے