کراچی میں اعجاز جکھرانی کے بھائیوں کے بنگلے پر پولیس کا دھاوا، کشیدگی، خواتین سے بدتمیزی کا الزام
کراچی (رپورٹ) پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی اعجاز جکھرانی کے بھائیوں خالد جکھرانی اور آزاد جکھرانی کے ڈیفنس فیز 6 میں واقع بنگلے پر پولیس کے مبینہ دھاوے کے بعد کشیدگی پیدا ہوگئی۔ خالد اور آزاد جکھرانی نے پولیس پر گھر میں داخل ہو کر خواتین سے بدتمیزی، اہل خانہ سے تلخ کلامی، موبائل فون چھیننے اور ملازمین کو گرفتار کرکے لے جانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
آزاد جکھرانی نے سعودی عرب سے جاری اپنے ویڈیو بیان میں الزام لگایا کہ رات گئے 100 سے زائد پولیس اہلکاروں نے ان کے بنگلے پر دھاوا بولا، ان کی بہنوں کو اٹھانے کی کوشش کی اور ان سے موبائل فون چھین لیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس اہلکار گھر میں موجود سات ملازمین کو بھی گرفتار کرکے لے گئے۔
آزاد جکھرانی کے مطابق پولیس کی کارروائی کے دوران گھر والوں کے ساتھ بدتمیزی کی گئی۔ انہوں نے اعجاز جکھرانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ جائیداد کے معاملے پر اس حد تک گر گئے ہیں اور اس معاملے کا ہر حساب لیا جائے گا۔
دوسری جانب خالد جکھرانی نے الزام عائد کیا کہ رات ڈھائی بجے ان کی غیر موجودگی میں پولیس نے گھر پر دھاوا بولا اور ان کی بہنوں کے ساتھ بدتمیزی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بہنوں سے موبائل فون چھینے گئے اور انہیں پولیس موبائل میں لے جانے کی کوشش بھی کی گئی۔
خالد جکھرانی نے دعویٰ کیا کہ جب وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی ممتاز جکھرانی کے ہمراہ گھر پہنچے تو پولیس اہلکاروں نے ان کے ساتھ بھی تلخ کلامی کی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس گھر میں موجود سرکاری اسلحہ بھی اپنے ساتھ لے گئی۔ ان کے بقول یہ صرف ان کے خاندان کی نہیں بلکہ سندھ کی بیٹیوں کی تذلیل ہے۔
خالد جکھرانی نے الزام لگایا کہ جائیداد ان کے نام منتقل کرنے سے انکار پر اعجاز جکھرانی نے گھر پر پولیس کارروائی کروائی۔ انہوں نے کہا کہ اعجاز جکھرانی کو ایسی حرکت کرنے کے بجائے انہیں سامنے بلا کر گولی مار دینی چاہیے تھی۔
خالد جکھرانی نے مزید الزام عائد کیا کہ پولیس گرفتار ملازمین کے خلاف چرس یا دیگر منشیات برآمد ہونے کا مقدمہ درج کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ادھر پولیس کارروائی اور جکھرانی خاندان کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات پر پولیس کا مؤقف سامنے نہیں آسکا۔ الزامات کی آزادانہ تصدیق بھی نہیں ہوسکی۔