منگل، 22 ستمبر 2026
بریکنگ

کراچی سندھ کی معاشی شہ رگ اور دل ہے، اسے الگ کرنے کے خواب دیکھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں، ایاز لطیف پلیجو

تازہ ترین 22nd Sep 2026 20 مناظر
کراچی سندھ کی معاشی شہ رگ اور دل ہے، اسے الگ کرنے کے خواب دیکھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں، ایاز لطیف پلیجو

سانگھڑ میں قومی عوامی تحریک کی محبتِ سندھ ریلی، ہزاروں افراد کی شرکت، سندھ تقسیم کرنے کی سازشوں کے خلاف بھرپور احتجاج

شاہپور چاکر / شہدادپور / چودگھی: سانگھڑ کے شہر چودگی میں قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو کی قیادت میں سندھ کو توڑنے کی سازش، دریا پر ڈاکہ اور دیگر سندھ دشمن منصوبوں کے خلاف چودگھی سے گاؤں محمد کھوسو تک محبتِ سندھ ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں ضلعی صدر زبیر ماکوڑانی، ایڈووکیٹ صدام کھوسو، محمود رخشانی، لال خان شر، حضور بخش ڈاہری، رؤف باگراانی، عامر سندھی، ابراہیم بگٹی، الطاف خاصخیلی، نذیر بلیڈی، ایڈووکیٹ امداد چنا، سندھیانی تحریک کی زینت سموں، نصرت خاصخیلی، زاہدہ ڈاہری، بختاور کھوسو، ماروی کھوسو، ہیمی بھیل، بختاور چانڈ سمیت سندھیانی تحریک کی کارکنان سمیت ہزاروں افراد شریک تھے۔ شہدادپور، مقصودو رند، چودگھی اور گاؤں محمد کھوسو پہنچنے پر ایاز لطیف پلیجو کا پھولوں کی پتیاں نچھاور کرکے شاندار استقبال کیا گیا۔ گاؤں محمد کھوسو میں محبتِ سندھ اور کامریڈ علی مردان کھوسو کی برسی کا جلسہ عام منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کے خواب دیکھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ کراچی سندھ کا دارالحکومت، معاشی شہ رگ اور دل ہے۔ اردو بولنے والے ہمارے اپنے ہیں، لیکن کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی سازش کو وہ بھی کبھی قبول نہیں کریں گے۔ ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ ایوب خان کے دور میں ون یونٹ بنا کر سندھ کی شناخت ختم کرنے کی کوشش کی گئی تھی، جسے سندھ کے عوام نے ناکام بنا دیا تھا۔ اب اسی سازش کو ’’انتظامی یونٹ‘‘ کا نیا نام دے کر سندھ میں ون یونٹ کی سازش کی جا رہی ہے۔ ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ علی مردان کھوسو سندھ کا سچا سپاہی تھا، علی مردان کھوسو نے سانگھڑ سمیت سندھ کے مظلوم عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کی اور سانس کی آخری ہچکی تک لڑتا رہا۔ علی مردان قومی عوامی تحریک کا مرکزی رہنما تھا، دریا، سندھ کو توڑنے کی سازش، کرپشن، دہشت گردی سمیت سندھ دشمن منصوبوں کے خلاف ہر وقت جدوجہد کے میدان میں ثابت قدم رہا۔ سندھ کو علی مردان کھوسو جیسے سیاسی سپاہیوں کی ضرورت ہے۔ ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ آج کل بہت سے لوگ انتظامی یونٹس کی حمایت میں اترے ہوئے ہیں، انتظامی یونٹس کا مقصد بھی سندھ کو تقسیم کرنا ہے، 8 کروڑ سندھیوں کی سڑکوں سے لاشیں اٹھانا، باقی سندھ کو تقسیم نہیں کرنے دیں گے۔ آپ نے پہلے بھی بنگالیوں پر بے انتہا ظلم کرکے اس کے نتائج بھگتے تھے، اب پھر نئی مہم جوئی کریں گے تو اس کے نتائج بھی ایسے ہی ہو سکتے ہیں۔ ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سندھ خطرے میں ہے اور پورا پاکستان خطرے میں ہے، بدقسمتی ہے کہ پاکستان کے حکمران ہمیشہ کبوتر کی طرح ریت میں منہ ڈال کر پھر سمجھتے ہیں کہ ہم جیسے کسی کو نہیں دیکھ رہے، ویسے ہی دوسرے بھی ہمیں نہیں دیکھ رہے۔ شتر مرغ بھی ایسا ہی کرتا ہے، ریت میں منہ ڈال کر پھر سمجھتا ہے کہ میں کسی کو نہیں دیکھ رہا تو مجھے بھی کوئی نہیں دیکھ رہا۔ کوہاٹ میں دھماکا ہوا ہے، درجنوں لوگ شہید ہو گئے ہیں، وہ ہمارے بھائی تھے، اگر ہم ملک میں امن و امان، جمہوریت، برابری اور انصاف پر توجہ دیں تو ان واقعات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ ملک کے حکمرانوں اور بااختیار طاقتور قوتوں کی توجہ اس بات پر ہے کہ دوسروں کو کیسے لوٹیں اور لُوٹ مار کریں۔ ایک طرف بلوچستان میں حالات خراب ہیں، دوسری طرف خیبر پختونخوا میں حالات خراب ہیں، تیسری طرف آزاد کشمیر میں حالات خراب ہیں، باقی رہ گیا کیا ہے؟ سندھ کو بھی دیوار سے لگاتے ہیں، یعنی ایک ایسا صوبہ، ایسا زمین کا ٹکڑا ہے اس ملک میں جہاں لوگ پرامن ہیں، انہیں بھی لاٹھیاں مار کر انہیں دیوار سے لگائیں، ان کی گردنوں میں، ان کے گھروں میں، ان کے مال و ملکیت میں ہاتھ ڈالنا چاہتے ہیں کہ وہ بھی سڑکوں پر نکل آئیں؟ کیا آپ پاکستان کے خیرخواہ ہیں یا پاکستان کے دشمن ہیں؟ ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ عالمی سامراجی طاقتیں نیا اسرائیل بنانے کے لیے سندھ کو توڑنا چاہتی ہیں۔ سندھ دشمن قوتوں کو واضح کرنا چاہتا ہوں کہ سندھ صوبہ نہیں بلکہ 8 کروڑ سندھیوں کا وطن ہے۔ سندھ وحدت ہے۔ سندھ ہزاروں سال سے سندھیوں کا وطن ہے۔ جب تک ایک بھی سندھی زندہ ہے سندھ کو توڑنے نہیں دیں گے۔ ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ نیا صوبہ اور انتظامی یونٹ نہیں، وسائل اور انصاف چاہئیں۔ نیا نقشہ نہیں، امن اور برابری پر مبنی نظام چاہیے۔ سندھ کی تقسیم نہیں، روزگار، تعلیم اور پانی چاہیے۔ خراب حکمرانی کا حل صوبوں کی تقسیم میں تلاش کرنے کے بجائے اصل بیماری اور لوٹ مار کو ختم کیا جائے۔ ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ کراچی سے کشمور تک سندھ کے لوگوں نے بتا دیا ہے کہ سندھ کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔ حکمران ملک کے خلاف سازشیں بند کریں۔ سندھ کو توڑنے کی سازش کے خلاف خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ گاؤں گاؤں اور شہر شہر جا کر سندھی لوگوں کو بیدار کریں گے۔ ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سندھی پرامن لوگ ہیں، ہم پاکستان کے آئین اور قانون پر یقین رکھتے ہیں، اگر سندھ کی وحدت پر حملہ کیا تو 8 کروڑ سندھی مزاحمت کریں گے۔ ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سندھ کو کرپٹ حکمرانوں نے وسکیوں، ٹھروں، شرابوں، آئس، چرسوں اور افیون کے حوالے کر دیا ہے۔ نوجوانوں کو منشیات کے ذریعے تباہ کیا جا رہا ہے۔ یہ منشیات کی آگ جو آپ دوسروں کے گھروں میں لگا رہے ہیں، حکمرانو یاد رکھو کہ یہ آگ گھومتے پھرتے آخرکار آپ کے اپنے گھروں تک بھی پہنچنی ہے۔ ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ جلالپور کینال سمیت دریائے سندھ پر کوئی بھی ڈیم یا کینال قبول نہیں ہے۔ وفاقی حکومت کے ایجنڈے پر سندھ کی ترقی نہیں ہے۔ وسائل کی لوٹ مار کی جا رہی ہے۔ مصنوعی پانی کی قلت، زرعی تباہی اور مہنگائی کے باعث سندھ میں بھوک، بے روزگاری اور غربت بڑھ گئی ہے۔ گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ ہے۔ لوگ پینے کے پانی سے محروم ہیں۔ ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کا سوال بھی نوجوانوں اور حکمرانوں کے سامنے رکھا کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ لوگ دوسرے مقامات پر امتحان پاس کرتے ہیں، لیکن سندھ پبلک سروس کمیشن میں آکر ناکام ہو جاتے ہیں؟ آخر سندھ کے نوجوان کے ساتھ یہ سوال بار بار کیوں پیدا ہوتا ہے؟ آخر یہ سلسلہ کب ختم ہوگا؟ اس موقع پر سندھیانی تحریک کی رہنما زینت سموں، بختاور کھوسو، محمود رخشانی، زبیر ماکوڑانی، صدام کھوسو اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔
شیئر کریں:

0 تبصرے

تبصرہ کریں

مطلوب خانہ
مطلوب خانہ