پانچ فروری: یومِ یکجہتی اور کشمیر کی آزادی تحریک

حسن پٹھان

پانچ فروری: یومِ یکجہتی اور کشمیر کی آزادی تحریک

پاکستان میں قومی دنوں کی ایک فہرست ہے جن کی جڑیں یا تو تحریکِ آزادی سے جڑی ہیں یا کسی واضح تاریخی واقعے سے. مگر پانچ فروری، جسے یومِ یکجہتیٔ کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے، بظاہر اس روایت سے مختلف دکھائی دیتا ہے. یہ دن کسی جنگ، کسی معاہدے یا کسی براہِ راست تاریخی سانحے سے منسلک نہیں، مگر اس کے باوجود قومی شعور میں اس کی جگہ گہری اور مستقل ہے. پانچ فروری کے دن کی معنویت کہاں سے جنم لیتی ہے؟ اس کا جواب ہمیں محض ایک تاریخ میں نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط سیاسی سفر میں ملتا ہے. انیس سو نواسی کا سال عالمی سیاست میں ایک فیصلہ کن موڑ کی علامت تھا. سویت یونین کا افغانستان سے انخلا صرف ایک جنگ کا خاتمہ نہیں تھا بلکہ اس نے دنیا بھر میں یہ تاثر مضبوط کیا کہ ایک منظم اور نظریاتی مزاحمت کسی بھی بڑی طاقت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتی ہے. اس فضا نے بالخصوص ان خطوں کے نوجوانوں کو متاثر کیا جہاں آزادی کی تحریکیں یا تو دبائی جا چکی تھیں یا جمود کا شکار تھیں. ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی یہی کیفیت پیدا ہوئی. اسی پس منظر میں دسمبر 1989 کو ایک واقعہ پیش آیا جسے بعد ازاں کشمیری مزاحمت کی تاریخ میں ایک سنگِ میل کے طور پر یاد کیا گیا. انڈین وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی بیٹی کا اغوا، اس بدلے ہندوستان کی حکومت کی جانب سے قیدیوں کی رہائی، اور اس کے بعد سرینگر کی گلیوں میں ہونے والا جشن یہ سب اس بات کا اعلان تھا کہ کشمیری نوجوانوں نے پہلی مرتبہ ریاستی طاقت کو جھکنے پر مجبور کیا ہے. یہ واقعہ محض ایک اغوا نہیں تھا، بلکہ اس نے ایک پوری نسل کے ذہن میں یہ خیال راسخ کر دیا کہ مسلح مزاحمت بھی ایک ممکنہ راستہ ہے. اسی دوران، درجنوں کشمیری نوجوان خفیہ راستوں سے لائن آف کنٹرول عبور کر کے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر پہنچنے لگے. مظفرآباد میں یہ نوجوان نہ صرف مقامی آبادی کے لیے حیرت کا باعث تھے بلکہ پاکستانی سیاست کے لیے بھی ایک نیا سوال بن کر سامنے آئے. ان کی آنکھوں میں تھکن، چہروں پر عزم اور لہجوں میں بے خوفی تھی. یہ وہ لمحہ تھا جب کشمیر کا مسئلہ ایک بار پھر محض سفارتی فائلوں سے نکل کر عوامی جذبات کا حصہ بننے لگا. یہیں سے پاکستان کی مذہبی اور سیاسی جماعتوں کا کردار نمایاں ہوتا ہے. جماعتِ اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد، جو پہلے ہی افغان جہاد کے تناظر میں ایک مضبوط نیٹ ورک رکھتے تھے، نے کشمیری نوجوانوں کو ایک نظریاتی علامت کے طور پر اپنایا. ان کی اپیل پر پانچ فروری کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان محض ایک احتجاج نہیں بلکہ ایک سیاسی پیغام تھا، کشمیر اب دوبارہ پاکستان کی داخلی سیاست کا مرکزی موضوع بننے جا رہا ہے. اس وقت کی سیاسی فضا بھی اس اعلان کے لیے سازگار تھی. محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت، جس پر اپوزیشن کی جانب سے ہندوستان نواز ہونے کے الزامات لگ رہے تھے، ایک نازک مرحلے سے گزر رہی تھی. راجیو گاندھی کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں، سارک کانفرنس اور کشمیر پر محتاط خاموشی یہ سب چیزیں اپوزیشن کے لیے ایک مضبوط بیانیہ فراہم کر رہی تھیں. چنانچہ جب اپوزیشن نے پانچ فروری کی ہڑتال کا اعلان کیا تو حکومت کے پاس اس میں شامل ہونے کے سوا کوئی راستہ نہ تھا. بے نظیر بھٹو کا مظفرآباد میں دیا گیا خطاب محض ایک سیاسی تقریر نہیں تھا بلکہ ایک علامتی موڑ ثابت ہوا. ان کے الفاظ، ان کا لہجہ اور جلسے میں گونجنے والے نعرے، سب نے مل کر یہ تاثر پیدا کیا کہ ریاستِ پاکستان ایک بار پھر کھل کر کشمیری موقف کے ساتھ کھڑی ہے. اس ایک دن نے نہ صرف حکومت کو سیاسی دباؤ سے نکالا بلکہ پانچ فروری کو ایک مستقل قومی دن میں بھی تبدیل کر دیا. تاہم، کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کی یہ روایت اچانک وجود میں نہیں آئی تھی. اس کی جڑیں بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں پیوست ہیں. 1931 کی تحریک، مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف عوامی بغاوت، عبدالقدیر خان کی تقریر اور 13 جولائی کے شہدا، یہ سب واقعات اس اجتماعی شعور کی بنیاد تھے جس نے بعد میں پورے برصغیر کو متاثر کیا. ان واقعات کے بعد پنجاب، دہلی اور لکھنؤ تک احتجاجی لہر پھیلنا اس بات کا ثبوت تھا کہ کشمیر کا مسئلہ ابتدا ہی سے ایک علاقائی نہیں بلکہ برصغیر کی سطح کا سوال رہا ہے. علامہ اقبال، سر ظفراللہ خان اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی سرگرمیاں اس دور کی اس سیاسی بیداری کو مزید واضح کرتی ہیں. اگرچہ یہ کوششیں وقت کے ساتھ کمزور پڑ گئیں، مگر یکجہتی کی روایت زندہ رہی. قیامِ پاکستان کے بعد یہ روایت کبھی سفارتی بیانات کی صورت میں، کبھی قراردادوں کی شکل میں اور کبھی علامتی ہڑتالوں کے ذریعے اپنا اظہار کرتی رہی. 1975 میں شیخ عبداللہ اور اندرا گاندھی کے معاہدے کے بعد ہونے والی ہڑتال نے یہ واضح کر دیا تھا کہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان کی عوامی حساسیت محض حکومتوں کے بدلنے سے ختم نہیں ہوتی.ذوالفقار علی بھٹو کی اپیل پر ہونے والی پرامن ہڑتال نے یہ پیغام دیا کہ کشمیر اب بھی اجتماعی ضمیر کا حصہ ہے. پانچ فروری دراصل ان تمام تاریخی دھاروں کا مجموعہ ہے. یہ دن کسی ایک واقعے کی یادگار نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد، ایک سیاسی ردِعمل اور ایک عوامی جذبے کی علامت ہے. یہی وجہ ہے کہ دہائیاں گزرنے کے باوجود، سیاسی حکومتیں بدلنے کے باوجود، اور عالمی ترجیحات میں تبدیلی کے باوجود، یہ دن اپنی جگہ قائم ہے. آج جب کشمیر کا مسئلہ ایک بار پھر عالمی سیاست کے حاشیے پر دھکیلا جا رہا ہے، پانچ فروری ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کچھ سوالات محض سفارت کاری سے حل نہیں ہوتے. یہ دن اس عہد کی یاد دہانی ہے جو پاکستان نے کشمیری عوام کے ساتھ کیا تھا، ایک عہد جو تاریخ، سیاست اور جذبات کے امتزاج سے تشکیل پایا، اور جو اب ایک دن سے بڑھ کر ایک علامت بن چکا ہے.