مری کی سبزہ زار گرمیاں

عبداللہ عباسی

مری کی سبزہ زار گرمیاں

اگرچہ مری سردیوں میں مشہور ہے، مگر گرمیوں کی مری کا اپنا ہی رنگ ہے۔ مئی سے اگست تک جب میدانی علاقوں میں گرمی اپنے عروج پر ہوتی ہے، مری کے پہاڑ سرسبز لباس پہن لیتے ہیں۔ چیڑ اور دیودار کے گھنے جنگلات، ٹھنڈی ہوائیں اور ہلکی پھوار مل کر جنت کا سماں باندھ دیتے ہیں۔ پتریاٹہ چیئر لفٹ سے نیچے دیکھیں تو دور دور تک سبز وادیاں اور چھوٹے گاؤں نظر آتے ہیں۔ ایوبیہ نیشنل پارک میں پائپ لائن ٹریک پر چہل قدمی کرتے ہوئے بادل آپ کے قدموں سے نیچے تیرتے محسوس ہوتے ہیں۔ شام کے وقت مال روڈ پر ٹھنڈی ہوا کے جھونکے اور گرم مکئی کے دانے، یہی مری کی گرمیوں کی پہچان ہے۔ مری میں سورج غروب کا منظر دیکھنے کے لیے کشمیر پوائنٹ سب سے بہترین جگہ ہے۔ شام ڈھلتے ہی آسمان نارنجی، گلابی اور سنہری رنگوں سے بھر جاتا ہے۔ سامنے برف پوش پیر پنجال کے پہاڑوں کے پیچھے جب سورج چھپتا ہے تو پوری وادی سنہری روشنی میں نہا جاتی ہے۔ نیچے اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہر ٹمٹماتے تاروں کی طرح نظر آنے لگتے ہیں۔ ٹھنڈی ہوا، خاموشی اور یہ دلکش منظر مل کر انسان کو دنیا کی ہر فکر سے آزاد کر دیتا ہے۔ یہی لمحے مری کو "ملکۂ کوہسار" بناتے ہیں۔ مری صرف ایک پہاڑی مقام نہیں، یہ قدرت کا وہ تحفہ ہے جو ہر موسم میں نیا روپ دھار لیتا ہے۔