تہران / واشنگٹن / تل ابیب (ویب ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کو آئندہ 4 سے 6 ہفتوں میں نمٹانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے نیٹو اتحادیوں پر سخت تنقید کی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران عسکری طور پر تباہ ہو چکا ہے اور وہ امریکا کے ساتھ معاہدے کے لیے “خیرات” مانگ رہا ہے، تاہم نیٹو ممالک نے اس اہم وقت میں امریکا کا ساتھ نہیں دیا، جسے کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایرانی بحریہ کے کمانڈر علی رضا تنگسیری کو نشانہ بنایا ہے۔ جبکہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور تہران کسی بھی معاہدے میں لبنانی تنظیم حزب اللہ پر حملوں کی بندش کو شامل کرنے پر زور دے رہا ہے۔
“نیٹو نے ایران جیسے پاگل ملک کے خلاف امریکا کی مدد نہیں کی، یہ بات کبھی نہیں بھولوں گا” — ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی حکام کو نہایت مختلف اور عجیب قرار دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وہ امریکا کے ساتھ معاہدے کے لیے خیرات مانگ رہے ہیں، ایرانی فوج مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے اور ان کے پاس واپسی کا کوئی امکان نہیں۔
ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود وہ عوام کو بتا رہے ہیں کہ “وہ صرف ہماری تجویز پر غور کر رہے ہیں… یہ جھوٹ ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “بہتر ہے کہ وہ جلد سنجیدہ ہو جائیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔”
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایک بار اگر دیر ہو گئی تو دوبارہ موقع نہیں ملے گا۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر نیٹو ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو ایران کی جنگ میں ان کی مدد کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ “نیٹو ممالک نے ایران جیسے پاگل ملک کے خلاف مدد کے لیے کچھ بھی نہیں کیا، جو اب عسکری طور پر ختم ہو چکا ہے۔ امریکا کو نیٹو سے کسی چیز کی ضرورت نہیں، لیکن ہم اس اہم وقت کو کبھی نہیں بھولیں گے۔”
0 تبصرے