جنگی صورتحال: وزراء دو ماہ کی تنخواہ نہیں لیں گے، سرکاری دوروں پر پابندی، فیول الاؤنس آدھا

جنگی صورتحال: وزراء دو ماہ کی تنخواہ نہیں لیں گے، سرکاری دوروں پر پابندی، فیول الاؤنس آدھا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم کی زیر صدارت بچت پالیسی سے متعلق اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ اور آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں جنگی صورتحال کے باعث کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ حکومت نے جون 2026 تک نئی اشیاء کی خریداری پر پابندی عائد کر دی، جبکہ کابینہ ارکان، ارکانِ پارلیمنٹ اور سرکاری افسران کے سرکاری غیر ملکی دوروں پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ فیصلہ کیا گیا کہ تمام سرکاری گاڑیوں کو آئندہ دو ماہ کے لیے فراہم کیے جانے والے ایندھن میں پچاس فیصد کمی کی جائے گی۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی 60 فیصد سرکاری گاڑیاں دو ماہ کے لیے گراؤنڈ کر دی جائیں گی، جبکہ جون 2026 تک نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی برقرار رہے گی۔ اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ وفاقی اور صوبائی کابینہ کے تمام وزراء، مشیر اور معاونینِ خصوصی رضاکارانہ طور پر دو ماہ کی تنخواہ اور الاؤنس نہیں لیں گے۔ اسی طرح تمام وفاقی و صوبائی محکموں میں گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے وہ سرکاری افسران جن کی تنخواہ 3 لاکھ روپے سے زیادہ ہے، ان کی دو دن کی تنخواہ بھی کاٹی جائے گی۔