6کروڑ سندھی یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ جاگیرداروں اور وڈیروں سے ہاتھ اٹھائے اور ملک کو حقیقی جمہوری نظام دیا جائے۔ ایڈوکیٹ ستار سرکی

انگریزوں، ترخانوں، ارغون نے بھی سندھ کی وہ حالت نہیں کی، جو موجودہ پیپلز پارٹی کی نام نہاد جمہوری حکومت نے کی ہے۔ سپریم کورٹ کے وکیل

6کروڑ سندھی یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ جاگیرداروں اور وڈیروں سے ہاتھ اٹھائے اور ملک کو حقیقی جمہوری نظام دیا جائے۔  ایڈوکیٹ ستار سرکی

حیدرآباد (رپورٹ: قیوم سروہی) سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ ستار سرکی نے کہا ہے کہ 6 کروڑ سندھی یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ جاگیرداروں اور وڈیروں سے ہاتھ اٹھائے اور ملک کو حقیقی جمہوری نظام دیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سپریم کورٹ کا وکیل بننے پر سندھ عوامی کلچر سنگت کی جانب سے سندھی ادبی سنگت قاسم آباد شاخ کے تعاون سے دی گئی اعزازی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ایڈوکیٹ ستار سرکی کے اعزاز میں منعقدہ تقریب کی صدارت سندھ عوامی کلچر سنگت کے چیئرمین ایڈوکیٹ روشن سندر چانڈیو نے کی، جبکہ حیدرآباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق جنرل سیکریٹری شاکر نواز شر اور سندھی ادبی سنگت قاسم آباد کے جنرل سیکریٹری شفیع محمد چانڈیو مہمانِ خاص تھے۔ ایڈوکیٹ روشن سندر چانڈیو نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایڈوکیٹ ستار سرکی سندھ کا بہادر بیٹا ہے، جس نے ہمیشہ سندھ کا مقدمہ لڑا ہے۔ لاڑکانہ کے سرداروں کے خلاف میں نے تحریک چلائی تھی تو رسول بخش پلیجو نے تعریف کی تھی اور ستار سرکی میرے ساتھ لاڑکانہ گیا اور جدوجہد میں ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایڈوکیٹ ستار سرکی نے عدلیہ کی بحالی کی تحریک کے دوران وکلا پر تشدد کرنے والے ایک صوبیدار کو تھپڑ مارا کہ تم نے ہمارے ساتھیوں پر تشدد کی جرأت کیسے کی۔ ماضی کی تحریکوں کی مثالیں آج بھی دی جاتی ہیں، لیکن آج کے ادیب سندھی ادبی سنگت اور آرٹس کونسل کے فنڈز کے لیے تو لڑتے ہیں، سندھ کے حقوق کے لیے لڑنے کو تیار نہیں۔ اس موقع پر سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ ستار سرکی نے اعزاز دینے والے دوستوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سردار اور وڈیرے 6 کروڑ سندھیوں کو یرغمال بنائے بیٹھے ہیں۔ جن پارٹیوں میں اکثریت وڈیروں اور سرداروں کی ہو، وہ عوام کی پارٹیاں نہیں ہوتیں۔ ایڈوکیٹ ستار سرکی نے کہا کہ انگریزوں، ترخانوں، ارغون نے بھی سندھ کی وہ حالت نہیں کی، جو موجودہ پیپلز پارٹی کی نام نہاد جمہوری حکومت نے کی ہے۔ شہید بھٹو اور بینظیر کی روح بھی آج تڑپ رہی ہوگی۔ پیپلز پارٹی کے 119 ایم پی ایز میں سے ایک میں بھی جرأت نہیں کہ سندھ کی بربادی پر بات کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسٹیبلشمنٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ خدارا جاگیرداروں اور سرداروں سے ہاتھ اٹھاؤ اور ملک کو حقیقی جمہوری نظام دو۔ ستار سرکی نے مزید کہا کہ 26ویں، 27ویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو کچلا گیا ہے، نظام مکمل ناکام ہو چکا ہے۔ وکیل جدوجہد کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ ایڈوکیٹ شاکر نواز شر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ باضمیر لوگ حقوق کے لیے لڑتے ہیں، بے ضمیر مفادات کے لیے لڑتے ہیں۔ سندھ میں 85 ہزار وکیل ہیں، لیکن نہروں کے خلاف تحریک میں صرف ہزار، پندرہ سو وکیل قیادت کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم وڈیروں، پیروں کی بدعتوں اور عذاب سے تنگ ہو کر شہروں میں آ کر قانون پڑھا، لیکن یہاں بھی وہی پیر، میر اور وڈیرے ملے۔ سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ اعزازی تقریب میں سندھی ادبی سنگت قاسم آباد کے جنرل سیکریٹری شفیع چانڈیو، محمد خان ابڑو، بہادر جونیجو، غلام قادر منتظر چانگ، ایڈوکیٹ خان محمد لاشاری اور دیگر نے ستار سرکی کی خدمات اور جدوجہد پر روشنی ڈالی۔ جبکہ ادیب، شاعر ادیب سلیم چنہ، پروفیسر خلیل پنہیار، عاشق سولنگی، قیوم سروہی نے شاعری سناکر داد حاصل کی۔ ایڈوکیٹ ستار سرکی کو دوستوں نے پھولوں اور اجرکوں کے تحائف بھی پیش کیے۔ پروگرام کی نظامت ایڈوکیٹ خادم کھوسو نے چلائی، محمد حسین گاہو نے نعت پڑھی۔