شہادت ــ دھرتی کی عظمت کی لازوال داستان

شوکت علی کلو

شہادت ــ دھرتی کی عظمت کی لازوال داستان

قومیں اپنی تاریخ ان بہادر لوگوں کے خون سے لکھتی ہیں، جو اپنی دھرتی، عوام اور قومی وقار کے تحفظ کی خاطر اپنی جانیں قربان کرتے ہیں۔ یومِ شہداء ہمیں ان عظیم انسانوں کی لازوال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے، جنہوں نے اپنے خون سے امن، آزادی اور سلامتی کی شمع روشن رکھی۔ یہ دن صرف ایک تقریب نہیں، بلکہ وفا، حب الوطنی، ایثار اور قومی غیرت کی تجدید کا دن ہے۔
شہادت اسلام میں بلند ترین درجات میں سے ایک ہے۔ قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں، انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، لیکن تمہیں شعور نہیں۔"
(سورۃ البقرہ: 154)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ شہید کبھی نہیں مرتے، بلکہ اپنے رب کے ہاں زندہ اور باعزت ہوتے ہیں۔ شہیدوں کا خون قوموں کی آزادی، سلامتی اور روشن مستقبل کی ضمانت بن جاتا ہے۔
ہمارے بہادر فوجی، پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان، دن ہو یا رات، سخت گرمی ہو یا سردی، ہر حال میں اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے سرگرم رہتے ہیں۔ سندھ پولیس کے وہ دلیر سپاہی، جنہوں نے دہشت گردی، جرائم، بدامنی اور امن دشمن عناصر کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے، سندھ دھرتی کے سچے ہیرو ہیں۔ ان کی بہادری، فرض شناسی اور قربانی تاریخ کے سنہری صفحات پر ہمیشہ کے لیے نقش رہے گی۔
شہیدوں کی قربانیاں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ وطن کی سلامتی، عوام کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کے لیے ہر قسم کی قربانی دینا ہی حقیقی حب الوطنی ہے۔ یہ عظیم انسان اپنے خون سے ہمیں یہ پیغام دے گئے ہیں کہ فرض سے بڑھ کر کوئی اعزاز نہیں۔
میرے لیے شہادت کا تصور صرف کتابوں تک محدود نہیں، بلکہ میری زندگی کا حصہ ہے۔ مجھے فخر ہے کہ میں ایک شہید والد، محمد مٹھل کلو، کا فرزند ہوں۔ سال 2014ء میں ہالانی شہر میں ایک آئل ٹینکر میں آگ لگ گئی، جہاں سیکڑوں بے گناہ انسانوں کی زندگیاں خطرے میں تھیں۔ میرے والد صاحب نے بغیر کسی خوف یا لالچ کے لوگوں کو بچانے کے لیے خود کو آگ میں جھونک دیا اور کئی قیمتی جانیں بچاتے ہوئے شہادت کا اعلیٰ مرتبہ حاصل کیا۔ یہ قربانی کی ایسی مثال ہے، جو ہمیشہ کے لیے میرے خاندان اور قوم کے لیے باعثِ فخر رہے گی۔
آج میں اپنے شہید والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سندھ پولیس میں سب انسپکٹر (پبلک ریلیشنز آفیسر) کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہا ہوں۔ میرے ادارے کے افسران اور ساتھی میرے ساتھ جس عزت، محبت اور شفقت کا برتاؤ کرتے ہیں، وہ میرے شہید والد کی عظیم قربانی کا احترام ہے۔ یہ عزت میرے لیے کسی بڑے اعزاز سے کم نہیں۔
شہیدوں کا وارث ہونے کے ساتھ ساتھ پولیس فورس کا حصہ ہونا میرے لیے ایک بڑی سعادت ہے۔ میرا ایمان ہے کہ اگر وطن کی حفاظت کے لیے ہزار بار بھی جان قربان کرنا پڑے تو اسے اعزاز سمجھوں گا، کیونکہ دھرتی کی حفاظت سے بڑھ کر کوئی مقدس فرض نہیں۔
آج کی نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ شہیدوں کی قربانیوں سے سبق حاصل کرے اور قانون کی پاسداری، وطن سے محبت، قومی اتحاد اور امن کے قیام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرے۔ قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں، جب وہ اپنے محسنوں اور شہیدوں کو فراموش نہیں کرتیں۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام شہیدوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کے خاندانوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، اور ہم سب کو اپنے وطن، قوم اور انسانیت کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
شہید ہمیشہ زندہ ہیں، ان کی قربانیاں لازوال ہیں، اور ان کا نام تاریخ کے روشن ابواب میں ہمیشہ کے لیے زندہ رہے گا۔
سلام شہیدوں کو
سلام سندھ پولیس
سندھ پولیس زندہ باد
پاکستان پائندہ باد....!