عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ نے دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے اور پاکستان بھی عالمی منڈی کی اس صورتحال سے الگ نہیں رہ سکتا۔ بین الاقوامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر پاکستان جیسے درآمدی تیل پر انحصار کرنے والے ملک پر پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں پٹرول کی قیمتیں بڑھنے کے ساتھ ساتھ آمدورفت، کاروبار، اشیائے ضروریہ اور گھریلو بجٹ پر بھی دباؤ بڑھتا ہے۔ ایسے مشکل اور غیر یقینی حالات میں حکومت کی جانب سے عام شہری، خصوصاً کم آمدنی والے اور متوسط طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کا اجرا ایک بروقت، ہدفی اور عوام دوست اقدام ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عوام پر پڑنے والے اضافی بوجھ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے خصوصی فیول ریلیف اسکیم کا اجرا کیا۔ اس اسکیم کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ، چنگ چی اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے اہل صارفین کو پٹرول پر فی لیٹر 100 روپے کا ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے اس مقصد کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے ہیں، جو اس امر کا واضح اظہار ہے کہ مشکل معاشی حالات میں بھی حکومت نے عام آدمی کو ریلیف دینے کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا ہے۔
یہاں حکومت کی پالیسی کا ایک اہم پہلو قابلِ ذکر ہے کہ ریلیف کو غیرضروری طور پر وسیع کرنے کے بجائے ان طبقات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جن کے لیے پٹرول کے بڑھتے ہوئے اخراجات واقعی گھریلو بجٹ پر نمایاں اثر ڈالتے ہیں۔ موٹر سائیکل اور رکشہ استعمال کرنے والے لاکھوں شہری روزگار، تعلیم، کاروبار اور روزمرہ ضروریات کے لیے اپنی سواری پر انحصار کرتے ہیں۔ ایسے شہریوں کے لیے پٹرول کی قیمت میں ہر اضافہ براہِ راست ان کے ماہانہ اخراجات میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم اسی مسئلے کو سامنے رکھتے ہوئے ایک ہدفی حکومتی مداخلت کے طور پر سامنے آئی ہے۔
اسکیم کے تحت دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے صارفین کو فی لیٹر 100 روپے کے حساب سے ماہانہ مقررہ مقدار پر ریلیف دیا جا رہا ہے، جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے صارفین کو بھی اسی شرح سے مخصوص مقدار پر سہولت فراہم کی گئی ہے۔ سرکاری طریقۂ کار کے مطابق دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے ہفتہ وار 500 روپے کے ٹوکن جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے دس روزہ بنیاد پر 1000 روپے کے ٹوکن کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس طریقۂ کار کا مقصد ریلیف کو براہِ راست اہل صارف تک پہنچانا اور حکومتی وسائل کے درست استعمال کو یقینی بنانا ہے۔
وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کی ایک اہم خصوصیت اس کا ڈیجیٹل نظام ہے۔ حکومت نے وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے ذریعے فیول پاس سسٹم متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد رجسٹریشن، ٹوکن کے اجرا اور ریلیف کی فراہمی کے عمل کو شفاف اور قابلِ نگرانی بنانا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس نظام کو اس انداز میںترتیب دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ اہل شہری گھر بیٹھے ایس ایم ایس
کے ذریعے رجسٹریشن کرا سکیں اور پٹرول اسٹیشن جانے سے قبل فیول ٹوکن حاصل کر سکیں۔
یہ امر بھی حکومت کی عوام دوست سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ رجسٹریشن کے طریقۂ کار کو زیادہ سے زیادہ آسان بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ متعلقہ وزارت کی جانب سے کم سے کم چیک اینڈ بیلنس کے ساتھ سادہ رجسٹریشن کا نظام متعارف کرانے کا مقصد یہی بتایا گیا کہ زیادہ سے زیادہ اہل شہری اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس کے علاوہ وزیراعظم کی ہدایت پر رجسٹریشن ایس ایم ایس سروس کو اہل شہریوں کے لیے مفت قرار دیا گیا، جو ان لوگوں کے لیے اہم سہولت ہے جو جدید ڈیجیٹل سہولیات تک محدود رسائی رکھتے ہیں۔
حکومت نے صرف اسکیم کا اعلان کرکے معاملہ ختم نہیں کیا بلکہ اس کے عملی نفاذ کی نگرانی بھی جاری رکھی ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے اسکیم کے مختلف مراحل کی ذاتی نگرانی اور عوامی فیڈ بیک کی بنیاد پر طریقۂ کار میں بہتری لانے کے اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت کا مقصد محض ریلیف کا اعلان کرنا نہیں بلکہ اسے حقیقی معنوں میں عوام تک پہنچانا ہے۔
حالیہ پیش رفت میں وزیراعظم کی جانب سے اسکیم کے دائرۂ کار میں مزید توسیع اور طریقۂ کار کو آسان بنانے کے فیصلے بھی قابلِ ذکر ہیں۔ عوامی رائے اور ابتدائی عملی تجربے کی روشنی میں موٹر سائیکلوں، رکشوں اور دیگر دو و تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے ایک ہی وقت میں کم از کم پانچ لیٹر پٹرول خریدنے کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ اب 500 روپے کے ہفتہ وار ٹوکن کو ضرورت کے مطابق کسی بھی مقدار میں پٹرول کے حصول کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ خصوصاً ان شہریوں کے لیے اہم ہے جو ایک ہی وقت میں زیادہ مقدار میں پٹرول خریدنے کی مالی استطاعت نہیں رکھتے۔
اسی طرح دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے عمر کی حد 15 سال سے بڑھا کر 20 سال کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے سے ان شہریوں کا دائرہ بھی وسیع ہوا ہے جو نسبتاً پرانی موٹر سائیکل، رکشہ یا چنگ چی استعمال کر رہے ہیں۔ حکومت کا یہ طرزِ عمل اس بات کی مثال ہے کہ عوامی سہولت کے لیے پالیسی کو زمینی حقائق اور شہریوں کے تجربات کی روشنی میں بہتر بنایا جا رہا ہے۔
یہ بات بھی قابلِ تعریف ہے کہ حکومت نے ریلیف اسکیم کو صرف بڑے شہروں تک محدود رکھنے کے بجائے ملک بھر میں نافذ کیا ہے۔ گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، خیبر پختونخوا اور دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی محدود دستیابی جیسے مسائل کو بھی حکومتی سطح پر زیرِ غور لایا گیا ہے۔ متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ جہاں انٹرنیٹ کی سہولت محدود یا دستیاب نہیں وہاں متبادل انتظامات کیے جائیں تاکہ کسی اہل شہری کو محض جغرافیائی محلِ وقوع کی وجہ سے ریلیف سے محروم نہ ہونا پڑے۔
یہ پہلو خاص طور پر اہم ہے کیونکہ پاکستان کے دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں ڈیجیٹل سہولیات ہر جگہ یکساں نہیں۔ گلگت بلتستان جیسے خطے میں جہاں بعض علاقوں میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی سہولیات محدود ہیں، متبادل طریقۂ کار اختیار کرنا حکومتی پالیسی میں زمینی حقائق کو مدنظر رکھنے کی علامت ہے۔
وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کا ایک اور مثبت پہلو یہ ہے کہ حکومت نے ریلیف کے ساتھ ساتھ کفایت شعاری اور توانائی کے تحفظ کے اقدامات بھی شروع کیے ہیں۔ وزیراعظم نے سرکاری گاڑیوں کے لیے تین ماہ تک فیول الاٹمنٹ میں 50 فیصد کمی کی منظوری دی ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ موجودہ عالمی صورتحال میں غیرضروری سرکاری اخراجات کم کرنا اور قومی وسائل کا محتاط استعمال ضروری ہے۔
یہ پالیسی اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ ایک طرف حکومت عام شہری کو ریلیف فراہم کر رہی ہے اور دوسری جانب سرکاری سطح پر اخراجات اور ایندھن کے استعمال کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ موجودہ صورتحال میں قربانی کا آغاز حکومت اور اشرافیہ سے ہونا چاہیے۔ اس طرح عوامی ریلیف اور حکومتی کفایت شعاری کو ایک ہی پالیسی فریم ورک کا حصہ بنایا گیا ہے۔
حکومت کی جانب سے 75 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کرنا بھی اس بات کا مظہر ہے کہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والے دباؤ کو مکمل طور پر عوام پر منتقل کرنے کے بجائے ریاستی وسائل سے ایک مخصوص طبقے کو سہارا دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 14 ستمبر کو اس اسکیم کے لیے 75 ارب روپے کی منظوری دی، جبکہ وزارتِ خزانہ نے اسے کم آمدنی والے طبقات کے لیے ہدفی ریلیف پروگرام قرار دیا ہے۔
وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کا بنیادی فلسفہ بھی قابلِ توجہ ہے۔ حکومت نے عمومی سبسڈی کے بجائے ہدفی سبسڈی کا راستہ اختیار کیا ہے تاکہ محدود قومی وسائل کو زیادہ ضرورت رکھنے والے شہریوں تک پہنچایا جا سکے۔ ایک گاڑی فی صارف یا مالک کی حد مقرر کرنا بھی اسی سوچ کا حصہ ہے۔ اس سے یہ کوشش نظر آتی ہے کہ سرکاری خزانے سے فراہم کیے جانے والے وسائل کا فائدہ زیادہ سے زیادہ مستحق شہریوں تک پہنچ سکے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق لاکھوں شہری اس اسکیم سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ حکام نے اس پروگرام کو عام آدمی کے لیے براہِ راست مالی ریلیف کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے۔ ایسے ماحول میں حکومت کی جانب سے فوری طور پر ایک مخصوص ریلیف پروگرام تشکیل دینا اور اس کے لیے اربوں روپے مختص کرنا عوامی مشکلات کو کم کرنے کی عملی کوشش ہے۔
پٹرول کی قیمت میں کمی کا اثر صرف پٹرول خریدنے والے فرد تک محدود نہیں رہتا۔ موٹر سائیکل پر دفتر جانے والا ملازم، طالب علم، چھوٹا دکاندار، مزدور، فری لانسر، گھر سے کاروبار کرنے والا فرد یا روزانہ سفر کرنے والا شہری، سب اس ریلیف سے بالواسطہ یا بلاواسطہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ایندھن کے اخراجات میں کمی سے ماہانہ بجٹ میں کچھ گنجائش پیدا ہوتی ہے اور یہی گنجائش کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے خوراک، تعلیم، صحت اور دیگر ضروری اخراجات پورے کرنے میں مددگار بن سکتی ہے۔
اسکیم کے معاشی اثرات کا ایک اہم پہلو ٹرانسپورٹ کے اخراجات بھی ہیں۔ جب پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا اثر صرف نجی گاڑی رکھنے والے شخص تک محدود نہیں رہتا بلکہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل کے اخراجات پر بھی پڑ سکتا ہے۔ اس تناظر میں حکومت کی جانب سے ہدفی فیول ریلیف مہنگائی کے دباؤ کو کم رکھنے کی مجموعی کوششوں کا حصہ بن سکتا ہے۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ حکومت نے عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف مالی وسائل فراہم کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انتظامی سطح پر بھی متعدد اقدامات کیے ہیں۔ پٹرول اسٹیشنوں پر سہولت کاری، رجسٹریشن کو آسان بنانا، ڈیجیٹل ٹوکن کا نظام، ادائیگیوں کی نگرانی اور عوامی شکایات کی بنیاد پر طریقۂ کار میں تبدیلیاں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اسکیم کو مسلسل بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
خصوصاً پٹرول اسٹیشنوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ صارف کو 500 روپے کے ٹوکن کی مکمل مالیت منتقل کی جائے اور کسی قسم کی کٹوتی یا سروس چارج وصول نہ کیا جائے۔ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ حکومت کی جانب سے فراہم کیا جانے والا ریلیف براہِ راست شہری تک پہنچے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مشکل حالات میں عوام کو تنہا نہ چھوڑنے کا عزم اور عملی طور پر اربوں روپے کے ریلیف پروگرام کا آغاز اس حکومتی ترجیح کو ظاہر کرتا ہے کہ عالمی معاشی بحران کے اثرات کو حتی الامکان عوام کے لیے قابلِ برداشت بنایا جائے۔ حکومت نے جہاں عوام کے لیے فیول سبسڈی فراہم کی ہے، وہیں سرکاری سطح پر ایندھن کی کھپت کم کرنے اور غیرضروری اخراجات پر قابو پانے کے اقدامات بھی کیے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام بھی اس اسکیم کے بارے میں درست معلومات حاصل کریں اور غیرضروری افواہوں یا غلط معلومات پر توجہ دینے کے بجائے سرکاری ذرائع سے رجسٹریشن اور ٹوکن کے طریقۂ کار سے آگاہی حاصل کریں۔ اسی طرح متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ عوامی شکایات کا فوری ازالہ کریں، تکنیکی مسائل حل کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی اہل شہری کو محض انتظامی یا تکنیکی رکاوٹ کے باعث اپنے حق سے محروم نہ ہونا پڑے۔
مجموعی طور پر وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کو موجودہ غیر معمولی عالمی حالات میں حکومت کی جانب سے عام آدمی کو فوری اور براہِ راست ریلیف فراہم کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے حکومت نے یہ پیغام دیا ہے کہ عالمی منڈی میں پیدا ہونے والے دباؤ کا سارا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے ریاستی وسائل سے کم آمدنی والے طبقات کی مدد کی جا سکتی ہے۔
یہ اقدام اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ حکومت نے محدود وسائل کے باوجود 75 ارب روپے کا پیکیج منظور کیا، ہدفی سبسڈی کا طریقہ اختیار کیا، ڈیجیٹل نگرانی کا نظام متعارف کرایا، رجسٹریشن کو آسان بنایا، عوامی شکایات کی بنیاد پر طریقۂ کار میں تبدیلیاں کیں اور دور دراز علاقوں میں متبادل انتظامات کی ہدایات جاری کیں۔ یہ تمام اقدامات ایک ایسی پالیسی کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس میں فوری عوامی ریلیف کے ساتھ شفافیت اور وسائل کے مؤثر استعمال کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔
بلاشبہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کسی ایک ملک یا حکومت کے اختیار میں نہیں، لیکن اس کے اثرات کو کم کرنا اور مشکل وقت میں عوام کے ساتھ کھڑا ہونا حکومت کی ذمہ داری ضرور ہے۔ وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم اسی ذمہ داری کو پورا کرنے کی ایک عملی کوشش ہے۔ اگر اس پروگرام پر اسی جذبے، شفافیت اور انتظامی مؤثریت کے ساتھ عمل جاری رکھا گیا تو یہ نہ صرف لاکھوں شہریوں کے ماہانہ بجٹ پر فوری دباؤ کم کر سکتا ہے بلکہ موجودہ مشکل حالات میں حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کو بھی مضبوط بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اس عوامی ریلیف پروگرام کو سیاسی بحث سے بالاتر ہو کر ایک ایسے حکومتی اقدام کے طور پر دیکھا جائے جس کا بنیادی مقصد مشکل معاشی حالات میں عام شہری کی مشکلات کم کرنا ہے۔ حکومت نے وسائل فراہم کیے ہیں، نظام تشکیل دیا ہے اور عوامی فیڈ بیک کی بنیاد پر اس میں بہتری بھی لائی جا رہی ہے۔ اب اس اسکیم کی کامیابی کا اگلا مرحلہ اس بات سے وابستہ ہے کہ ہر اہل شہری تک اس کا فائدہ آسان، شفاف اور باعزت انداز میں پہنچے۔