نئے صوبوں کے قیام پر سیاسی رہنماؤں میں اختلاف، اتفاقِ رائے، اختیارات کی منتقلی اور بلدیاتی حکومتوں کو مضبوط بنانے پر زور
اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان میں انتظامی ڈھانچے کی ازسرِنو تشکیل اور نئے صوبوں کے قیام کے متنازع مطالبے پر بحث کے دوران حکومتی اور اپوزیشن رہنماؤں، سیاسی رہنماؤں اور ماہرین نے مختلف مؤقف پیش کرتے ہوئے اختیارات کی منتقلی، مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم پر زور دیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں نئے صوبوں کی ضرورت ہے، تاہم نئے انتظامی یونٹس قائم کرنے کے لیے اتفاقِ رائے ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں ڈویژنوں کی تعداد 8 سے بڑھا کر 12 کر دی گئی ہے۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نئے صوبوں کے بارے میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ڈویژن کی سطح پر نئے انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں اور پولیس کو بھی مقامی سطح پر منظم کیا جائے۔
سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ نئے صوبے بنانے میں کوئی حرج نہیں اور آئین میں اس کا طریقۂ کار موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کا اصل مسئلہ صرف اختیارات کی منتقلی نہیں بلکہ انتظامی نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانا بھی ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما خرم دستگیر نے کہا کہ نئے صوبے بنانے سے پہلے آبادی پر قابو پانے اور نئے انتظامی ڈھانچے کے لیے ضروری بنیادیں تیار کرنے کی ضرورت ہے۔
بحث کے دوران عمر چیمہ نے کہا کہ سندھ نے پہلے ون یونٹ کی مخالفت کی تھی اور اب نئے صوبوں کے قیام کی بھی مخالفت کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی میں قرارداد منظور کرکے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ نئے صوبوں کے بارے میں بات بھی نہیں کر سکتے۔
جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا کہ جب تک طاقتور طبقہ خود کو آئین کا پابند نہیں بنائے گا، اس وقت تک کوئی بھی نظام کامیاب نہیں ہو سکے گا۔
ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی آسیہ اسحاق نے کہا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے دوران پیپلز پارٹی نے بلدیاتی اداروں سے متعلق آئینی ترمیمی بل شامل نہیں ہونے دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ایم کیو ایم نے اعلان کیا تھا کہ جب بھی نئے صوبوں کے قیام کی بات ہوگی تو ان کی جماعت پیش پیش ہوگی۔
دانیال عزیز نے کہا کہ صوبوں کو کمزور کیا گیا ہے اور کوئی 12 تو کوئی 32 یا 36 صوبے بنانے کی بات کر رہا ہے، جیسے صوبے ترازو میں تول کر بنائے جانے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں سیاسی اتفاقِ رائے موجود ہے، وہاں پہلے عمل درآمد کرنا چاہیے۔
ندیم افضل چن نے کہا کہ نئے صوبوں کی بات کرتے ہوئے ملک کو توڑنے کی طرف نہیں جانا چاہیے، بلکہ پرویز مشرف کے دور جیسا بلدیاتی نظام متعارف کرانے پر اتفاق کرنا چاہیے۔