جمعہ، 06 نومبر 2026
بریکنگ

سافکو کے بانی کو خواتین کی معاشی بااختیار بنانے کی جدوجہد پر اقوام متحدہ کے ایوارڈ سے نوازا گیا

سندھ 06th Nov 2026 4 مناظر
سافکو کے بانی کو خواتین کی معاشی بااختیار بنانے کی جدوجہد پر اقوام متحدہ کے ایوارڈ سے نوازا گیا
حیدرآباد: خواتین کی معاشی خودمختاری کے لیے چالیس سال سے زائد عرصے پر محیط جدوجہد اور خدمات کے عالمی اعتراف کے طور پر اقوام متحدہ کے ادارے ’یو این ویمن‘ کی جانب سے پاکستان میں پہلی بار منعقد کیے گئے ’پاکستان ویمنز ایمپاورمنٹ پرنسپلز (ڈبلیو ای پیز) ایوارڈز 2026‘ میں سافکو کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر محمد سلیمان جی ابڑو کو ’قیادت اور وابستگی‘ کی کیٹیگری میں فرسٹ رنر اَپ قرار دیا گیا۔ اس اعزاز کی خوشی میں حیدرآباد میں سافکو مائیکرو فنانس کمپنی کے ہیڈ آفس میں ڈاکٹر ابڑو کے اعزاز میں تقریب منعقد کی گئی، جس میں ادارے کے منیجنگ ڈائریکٹر سید سجاد علی شاہ، بشیر احمد ابڑو اور خواتین و مرد ملازمین نے شرکت کی۔ کراچی کے موہٹہ پیلس میوزیم میں 3 نومبر کو منعقدہ ایوارڈ تقریب میں سندھ حکومت کے سینئر وزیر برائے بلدیات ناصر حسین شاہ نے ڈاکٹر ابڑو کو ایوارڈ پیش کیا تھا۔ ڈاکٹر ابڑو نے یہ ایوارڈ محنت کش اور محروم خواتین کے نام کرتے ہوئے خواتین کے حقوق، تعلیم، صحت اور معاشی خودمختاری کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سید سجاد علی شاہ نے بتایا کہ یو این ویمن کی جانب سے مارچ 2026 میں ایوارڈز کے لیے درخواستیں طلب کی گئی تھیں، جس پر سافکو نے اپنی پالیسیوں، صنفی مساوات کے عملی منصوبے، خواتین کے لیے قیادت کی تربیت، خواتین کے لیے مخصوص برانچوں اور ویمن انکیوبیشن سینٹر کے حوالے سے تفصیلی کیس اسٹڈی جمع کرائی۔ بعد ازاں مزید دستاویزات اور شواہد طلب کیے گئے، جبکہ اکتوبر میں پانچ رکنی جیوری نے ڈاکٹر سلیمان ابڑو کی قیادت اور خدمات کے بارے میں تفصیلی انٹرویو بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایوارڈ ڈاکٹر ابڑو کی ذاتی سوچ، خواتین کی سماجی اور معاشی ترقی کے لیے طویل جدوجہد اور ادارے کی مشترکہ کوششوں کا اعتراف ہے۔ ڈاکٹر سلیمان ابڑو نے کہا کہ یہ ایوارڈ کسی ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ چالیس سالہ مشترکہ جدوجہد اور ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔ خواتین کے حقوق، انسانی حقوق، تعلیم، صحت اور معاشی خودمختاری کے لیے پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے مختلف ممالک میں کام کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواب اسی وقت حقیقت بنتے ہیں جب انہیں عملی جدوجہد اور مسلسل کوششوں کے ذریعے آگے بڑھایا جائے۔ ڈاکٹر ابڑو نے یہ ایوارڈ محنت کش اور محروم خواتین کے نام کرتے ہوئے کہا کہ دیہی علاقوں اور کچی آبادیوں میں رہنے والی بہت سی خواتین آج بھی تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، تاہم وہ بہتر زندگی کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قیادت کا مقصد صرف اپنی ترقی نہیں بلکہ دوسروں کے لیے مواقع پیدا کرنا، ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور نئی قیادت تیار کرنا بھی ہے۔ تقریب سے جے پرکاش، ہریش کمار، رمیز اقبال، سنیل کمار، نوید میمن، مجیب ناریجو، واجد جونیجو، حبیب اللہ خلجی، معشوق قریشی، شوکت ابڑو، ابصار ابڑو، مفتی ارسلان، تنویر سومرو، فہد حسین، ارسلا انجم، فلک علی، کشف بھٹی، صنم مغل، حفصہ شیخ، نائلہ میمن، اقصیٰ شیخ، یسرب راجپوت، جیا بھاٹیا، ملیحہ خاصخیلی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے ڈاکٹر سلیمان ابڑو کی چالیس سالہ جدوجہد اور بالخصوص خواتین کی معاشی ترقی، سماجی انصاف اور بااختیاری کے لیے ان کی خدمات کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ سافکو نے خواتین کی مالی خودمختاری، قیادت کے مواقع پیدا کرنے اور کاروباری سرگرمیوں میں ان کی شرکت بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔ تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر سلیمان ابڑو کے ساتھ کیک کاٹا گیا اور انہیں سندھی اجرک، لنگیاں اور گلدستے پیش کیے گئے۔
شیئر کریں:

0 تبصرے

تبصرہ کریں

مطلوب خانہ
مطلوب خانہ