پاکستان کے سمندروں کا محافظ

کامران ہاشمی

پاکستان کے سمندروں کا محافظ

موجودہ جغرافیائی سیاسی منظرنامے میں، بحری حدود عالمی تجارت کی 'شاہ رگ' کی حیثیت رکھتی ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ حقیقت خاصی اہمیت کی حامل ہے۔ ملکی تجارت کا تقریباً 90 سے 95 فیصد حصہ، بشمول توانائی کی اہم درآمدات، سمندر کے راستے ہوتا ہے، جس کی وجہ سے قومی معیشت کی بقا براہ راست سمندری حدود کے تحفظ سے جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان نیوی کا بنیادی کام یہ یقینی بنانا ہے کہ 'سی لائنز آف کمیونیکیشن' (SLOCs) سال بھر کھلی رہیں اور علاقائی جنگ یا کشیدگی کے دوران بھی ان میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔
مئی 2025 میں آپریشن بنیان المرصوص کے دوران، پاکستان نیوی نے اپنی جنگی طاقت اور بحری علاقوں کی حفاظت کی بھرپور صلاحیت ثابت کی۔ پاک بحریہ نے ایک مضبوط دفاعی موقف اختیار کیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ بحری مداخلت کے ذریعے معاشی ناکہ بندی کی کسی بھی کوشش کے باوجود پاکستانی بندرگاہوں یا تجارتی جہاز رانی میں کوئی خلل نہ آئے۔ بحری جہازوں کی تعیناتی اور آپریشنل تیاری نے یہ ثابت کر دیا کہ مکمل جنگ کے دہانے پر بھی پاکستان کی معاشی شہ رگ محفوظ رہی۔ یہ پاک بحریہ کی ایک فعال اور بہتر بحری دفاعی حکمت عملی کا مظہر تھا۔
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) بند ہو گئی، جو دنیا میں توانائی کی ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے (جہاں سے روزانہ 21 ملین بیرل تیل اور تقریباً 11.4 بلین مکعب فٹ ایل این جی گزرتی ہے، جس کا بڑا حصہ ایشیا کو جاتا ہے)۔ پاکستان ایک بڑا درآمد کنندہ ہے، جو روزانہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے 4.5 سے 5 لاکھ بیرل تیل اور قطر سے 1.1 سے 1.2 بلین مکعب فٹ ایل این جی منگواتا ہے۔ اس عدم استحکام کی وجہ سے ملک میں ایندھن کی قیمتوں میں 20 فیصد یا اس سے زائد اضافہ ہوا اور حکومت کو کفایت شعاری کی مہم نافذ کرنی پڑی۔
اس ہنگامی صورتحال کے پیش نظر، پاکستان نیوی نے 9 مارچ 2026 کو آپریشن محافظ البحر کا آغاز کیا۔ اس آپریشن کا مقصد پاکستانی پرچم والے جہازوں (PNSC ٹینکرز) کی حفاظت، تخریب کاری جیسے کثیر جہتی خطرات کا تدارک اور توانائی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ یہ آپریشن اب معمول کی گشت سے بڑھ کر فعال اسکاٹ آپریشنز، بہتر بحری آگاہی، 24/7 ساحلی دفاعی مشقوں اور مربوط گشت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ پاک بحریہ خلیج کے بحران کے دوران معیشت کے براہ راست محافظ کے طور پر کام کر رہی ہے تاکہ قلت کے خطرے کو ٹالا جا سکے۔
علاقائی جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے خطرات اور کسی بھی ممکنہ رکاوٹ کو روکنے کے لیے بحری صورتحال کی آگاہی (Maritime Situational Awareness) کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی قلت کے اس دور میں لاکھوں لیٹر تیل اور ضروری اشیاء کی ملک میں محفوظ آمد کو یقینی بنا کر نیوی ملکی معیشت کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
آپریشن محافظ البحر صرف موجودہ تناؤ کا جواب نہیں ہے، بلکہ یہ عالمی برادری اور ان اداروں کو ایک بڑا پیغام ہے جو ان تجارتی راستوں پر انحصار کرتے ہیں، کہ پاکستان نیوی کسی بھی اشتعال انگیزی کا جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ تجارت کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے تاکہ بحری جہاز بغیر کسی خوف کے سفر کر سکیں۔
جنگ کے دوران آپریشن بنیان المرصوص سے امن کے دوران آپریشن محافظ البحر تک کی تیز رفتار اور ہموار منتقلی اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ پاکستان کی بحری سلامتی قومی سلامتی کا لازمی جزو ہے۔ جب ملک کی 95 فیصد تجارت سمندر پر منحصر ہو، تو پانیوں پر معمولی سی کمزوری بھی سڑکوں پر بڑے بحران کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر سمندری تجارتی راستے کٹ جائیں تو فیکٹریاں بند، نقل و حمل معطل اور ریاست کا دفاع کمزور پڑ جاتا ہے۔
پاک بحریہ شمالی بحیرہ عرب اور خلیج عمان میں اپنی موجودگی کے ذریعے ان ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کے لیے ایک رکاوٹ (deterrent) ہے جو خطے کی افراتفری سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ جب پاکستان بین الاقوامی سیاست اور علاقائی تنازعات کے دوران اپنا راستہ بناتا ہے، تو نیوی معیشت اور سفارت کاری کو کام کرنے کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرتی ہے۔ پاک بحریہ کی موجودہ سرگرمیاں محض سیکیورٹی فراہم کرنے تک محدود نہیں ہیں، بلکہ یہ اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ انتہائی کٹھن حالات میں بھی ملک کا معاشی مستقبل خطرے میں نہ پڑے۔ اس 'خاموش سروس' نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ملکی بحری مفادات کے دفاع کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہے۔
مصنف جغرافیائی سیاست، بحری سلامتی اور سٹریٹجک امور کے ماہر ہیں اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز (NIMA) سے وابستہ ہیں؛ تحریر میں بیان کردہ خیالات ان کی ذاتی رائے ہیں۔