کراچی: واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز کی رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اب صرف ٹینکوں یا میزائلوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایک الیکٹرانک وارفیئر میں تبدیل ہو چکی ہے۔
تین امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ روس کی جانب سے ایران کو انتہائی حساس انٹیلیجنس فراہم کی جا رہی ہے، جس میں امریکی بحری جہازوں اور طیاروں کے درست مقامات شامل ہیں۔ روس ایران کو اپنے جدید سیٹلائٹ نیٹ ورک (جیسے کانپوس-V یا ’خیام‘) کے ذریعے تصاویر اور ڈیٹا فراہم کر رہا ہے۔
اسی مدد کے ذریعے ایران نے کویت میں موجود امریکی اڈے پر ایک ایسے مقام کو نشانہ بنایا جس کے کوآرڈینیٹس کسی عوامی نقشے پر موجود نہیں تھے۔
چین نے ایران کے ریڈار سسٹم کو جدید بنا دیا ہے۔ چینی ’YLC-8B‘ اینٹی اسٹیلتھ ریڈار امریکہ کے مہنگے ترین اسٹیلتھ طیاروں (جیسے F-35) کو بھی تلاش کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایران چین سے تقریباً 50 CM-302 سپرسونک میزائل حاصل کرنے والا ہے، جنہیں کیریئر کلر (بحری جہاز تباہ کرنے والے) کہا جاتا ہے۔ یہ میزائل آواز سے تین گنا زیادہ رفتار سے سفر کرتے ہیں۔
دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل بھی خاموش نہیں ہیں۔ انہوں نے آپریشن رورنگ لائن کے ذریعے ایران کے متعدد ریڈارز کو تباہ کر کے انہیں کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم روس اور چین کی مدد سے ایران اب ایسی پوزیشن میں آ گیا ہے کہ وہ امریکہ کی ٹیکنالوجی برتری کو چیلنج کر رہا ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی میزائلوں کی درستگی میں اضافے کی وجہ چین کا جدید سیٹلائٹ نظام ’بیڈو‘ ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایرانی میزائلوں کی بہتر کارکردگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران نے اب امریکی GPS پر انحصار کم کر دیا ہے۔
چین کا بیڈو نظام امریکی GPS اور روسی نظام کے مقابلے میں زیادہ سیٹلائٹس پر مشتمل ہے، جس کے باعث اس کی لوکیشن کی درستگی زیادہ سمجھی جاتی ہے۔
0 تبصرے