نوابشاہ کے قریب پولیس کی جانب سے کوچ سے اتارے گئے صحافی کے بیٹے اور ساس 80 دن سے لاپتا

ہائی کورٹ حیدرآباد میں نوابشاہ پولیس کی تحویل میں لینے کا اعتراف

نوابشاہ کے قریب پولیس کی جانب سے کوچ سے اتارے گئے صحافی کے بیٹے اور ساس 80 دن سے لاپتا

حیدرآباد/نوابشاہ (رپورٹر) صحافی فلک شیر کے 13 سالہ بیٹے علی شیر اور ان کی بیمار ساس نسرین اختر 80 دن گزرنے کے باوجود تاحال آزاد نہ ہو سکے ہیں، جبکہ سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد بینچ میں پیش کی گئی رپورٹ میں پولیس کی جانب سے دونوں کو تحویل میں لینے کے واقعے کی تصدیق کی گئی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق نسرین اختر عیدالفطر کی تعطیلات کے دوران اپنے نواسے علی شیر کو لینے کے لیے ضلع ٹنڈوالہیار میں قائم کیڈٹ اسکول گئی تھیں۔ واپسی پر دونوں حیدرآباد سے فیصل آباد جانے والی مسافر کوچ میں سفر کر رہے تھے کہ 14 اور 15 مارچ کی درمیانی شب تقریباً ایک بجے شہید بینظیر آباد/نوابشاہ پل کے قریب پولیس موبائلوں نے کوچ کو روک لیا۔ کوچ عملے کے مطابق پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ ایک اہلکار، جس نے اپنا تعارف انسپکٹر سعید کے طور پر کروایا، بس میں داخل ہوا اور نسرین اختر اور علی شیر سے پوچھ گچھ شروع کی۔ کچھ دیر بعد دونوں کو زبردستی بس سے نیچے اتار لیا گیا۔ پولیس کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ لڑکا اغوا شدہ ہے اور اسے بازیاب کروایا گیا ہے، جبکہ نسرین اختر نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ علی شیر ان کا نواسہ ہے۔ کوچ ڈرائیور ضمیر الحسن نے اپنے بیان میں بتایا کہ واقعے کے دوران انہوں نے فوری طور پر کمپنی انتظامیہ کو آگاہ کیا اور پولیس سے بات چیت بھی کی گئی، مگر اس کے باوجود پولیس اہلکار دونوں مسافروں کو زبردستی پولیس گاڑی میں بٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے۔ ڈرائیور کے مطابق بعد میں انسپکٹر سعید نے اپنا موبائل نمبر بھی فراہم کیا۔ سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد میں دائر آئینی درخواست کی سماعت کے دوران 6 مئی کو ایس ایس پی حیدرآباد کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ تحقیقات کے دوران کوچ ڈرائیور ضمیر الحسن، منیجر فاروق اعظم جٹ اور فوکل پرسن ملک اسد کے بیانات قلمبند کیے گئے، جنہوں نے اپنے بیانات میں تصدیق کی کہ نسرین اختر اور علی شیر کو نوابشاہ پل کے قریب پولیس نے بس سے اتار کر اپنے ساتھ لے گئی تھی۔ عدالتِ عالیہ نے کیس میں اہم حقائق سامنے آنے کے بعد ایس ایس پی حیدرآباد اور ایس ڈی پی او چھلگری کاشف قادری کی تحقیقات کو سراہا، جبکہ ایس ایس پی شہید بینظیر آباد کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے ڈی آئی جی شہید بینظیر آباد کو ہدایت کی کہ معاملے کی مزید تحقیقات کے لیے کسی قابل افسر کو مقرر کر کے 9 جون کو تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔ دوسری جانب صحافی فلک شیر اور ورثا نے مطالبہ کیا ہے کہ 80 دن سے لاپتا علی شیر اور نسرین اختر کو فوری بازیاب کر کے انصاف فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب واقعے سے متعلق گواہوں کے بیانات، تحقیقاتی رپورٹ اور پولیس تحویل کے شواہد عدالت کے سامنے موجود ہیں تو پھر دونوں کی بازیابی میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے۔ ورثا کے مطابق اگر ایک معصوم بچے اور بیمار بزرگ خاتون کے تحفظ کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا تو پھر عام شہری انصاف کے لیے کس دروازے پر فریاد کریں؟