2030ء تک حیدرآباد ماحولیاتی خطرات سے دوچار حساس شہروں میں شامل ہو سکتا ہے: ماہرین

سافکو کے زیر اہتمام تقریب، شجرکاری، ماحول دوست زراعت اور متبادل توانائی کو موسمیاتی بحران کا حل قرار

2030ء تک حیدرآباد ماحولیاتی خطرات سے دوچار حساس شہروں میں شامل ہو سکتا ہے: ماہرین

حیدرآباد: عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر حیدرآباد کے قریب منعقدہ ایک تقریب میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتی ہوئی گرمی، پانی کی قلت اور موسمی بے ترتیبی آنے والے برسوں میں حیدرآباد کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ مقررین نے زور دیا کہ ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے شجرکاری، ماحول دوست زراعت، متبادل توانائی کے استعمال اور عوامی شعور کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سندھ ایگریکلچرل اینڈ فاریسٹ ورکرز کوآرڈینیٹنگ آرگنائزیشن (سافکو) کی جانب سے پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ (PPAF)، پرائم منسٹر یوتھ پروگرام اور کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم (CVE) کے مشترکہ تعاون سے ’’مستحکم اور ابھرتا ہوا پاکستان‘‘ کے عنوان سے گاؤں چٹو میربحر میں ایک تقریب منعقد کی گئی، جس میں علاقے کے معززین، سماجی رہنماؤں اور دیہاتیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سافکو کے بانی ڈاکٹر سلیمان جی ابڑو نے کہا کہ عالمی موسمیاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق رواں سال مئی کا مہینہ تاریخ کا دوسرا گرم ترین مہینہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے دوران عالمی درجہ حرارت 15.79 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ زمین تیزی سے گرم ہو رہی ہے، جبکہ عالمی ماہرین کے مطابق سمندروں کے درجہ حرارت میں اضافے کے باعث آئندہ پانچ برسوں میں مزید گرمی کے نئے ریکارڈ قائم ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تشویشناک صورتحال کے باوجود ایک حوصلہ افزا پہلو یہ ہے کہ دنیا بھر میں سولر اور ونڈ پاور کے ذریعے ماحول دوست بجلی کی پیداوار میں تاریخی اضافہ ہوا ہے، جو مستقبل میں کوئلے اور تیل کے استعمال میں کمی لا کر عالمی درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ سافکو کے بورڈ آف گورنرز کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر اعجاز علی کوہارو نے کہا کہ کاربن گیسوں کے بڑھتے ہوئے اخراج کے باعث دنیا کو سنگین ماحولیاتی خطرات کا سامنا ہے، اس لیے متبادل توانائی کے استعمال کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تعلیم اور تحقیق کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت میں کیمیائی کھادوں کے بجائے نامیاتی اور ماحول دوست طریقے اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ دیہی آبادی کو اپنے گھروں اور کھیتوں میں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے چاہئیں۔ سافکو کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ذیشان میمن نے ایک سائنسی سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2030ء تک حیدرآباد ماحولیاتی خطرات کے حوالے سے انتہائی حساس شہروں کی فہرست میں شامل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عوامی شعور بیدار کرنا ضروری ہے، اسی مقصد کے تحت تقریب کو شہری علاقے کے بجائے دیہی ماحول میں منعقد کیا گیا تاکہ پیغام براہِ راست عوام تک پہنچ سکے۔ تقریب سے عبدالشکور ملاح اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا، جبکہ یو سی چیئرمین عظیم برہم، ذیشان نورانی، ڈاکٹر نسیم راجپوت، رخسانہ رتڑ اور مہرالنساء ملاح سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ نوجوانوں کے تعاون سے جامعات میں ماحولیاتی آگاہی مہم چلائی جائے گی، کاشتکاروں کے لیے ماحول دوست زراعت کے موضوع پر سیمینار منعقد کیے جائیں گے اور ’’حیدرآباد 2030‘‘ کے ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے مقامی سطح پر ایک منظم ماحولیاتی ایکشن پلان تیار کیا جائے گا۔