لاہور (ویب ڈیسک): 2028 میں لاس اینجلس میں ہونے والے اولمپک کھیلوں میں کرکٹ کی تاریخی واپسی کے لیے ٹیموں کے کوالیفکیشن کا طریقہ کار طے کر دیا گیا ہے۔
کرکٹ 1900 کے پیرس اولمپکس کے بعد پہلی بار 2028 کے اولمپکس میں شامل ہو رہی ہے، جہاں مردوں اور خواتین کے مقابلے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں کھیلے جائیں گے۔
آئی سی سی کے مطابق لاس اینجلس اولمپکس کے کرکٹ ایونٹس میں مردوں اور خواتین کی 6، 6 ٹیمیں شرکت کریں گی۔ ان میں سے چار ٹیمیں ایشیا، افریقہ، یورپ اور اوشیانا کی نمائندگی کریں گی، جن کا فیصلہ آئی سی سی ایونٹس اور ٹی ٹوئنٹی رینکنگ کی بنیاد پر ہوگا۔
ہر براعظم کی ٹاپ رینک ٹیم براہِ راست اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرے گی۔
میزبان ملک امریکا کو بھی اہلیت کی بنیاد پر شامل کیا جائے گا، بشرطیکہ وہ ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں ٹاپ 15 میں موجود ہو۔ جبکہ چھٹی ٹیم کا فیصلہ آئی سی سی اولمپک کوالیفائر ٹورنامنٹ کے ذریعے ہوگا، جس میں 8، 8 ٹیمیں حصہ لیں گی۔
اولمپکس میں شریک چھ ٹیموں کو دو گروپس میں تقسیم کیا جائے گا، جن کی سرفہرست ٹیمیں سونے، چاندی اور کانسی کے تمغوں کے لیے مقابلہ کریں گی۔
پاکستانی ٹیمیں کیسے کوالیفائی کر سکتی ہیں؟
آئی سی سی کے قوانین کے مطابق 31 دسمبر 2026 تک مردوں کی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل رینکنگ میں ایشیا کی ٹاپ ٹیم براہِ راست اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرے گی۔ اس وقت اس پوزیشن کے لیے بھارت مضبوط امیدوار ہے۔ اگر پاکستان ایشیا میں پہلی پوزیشن حاصل نہ کر سکا تو اسے 2027 کے آئی سی سی اولمپک کوالیفائر میں شرکت کرنا ہوگی، اور لاس اینجلس اولمپکس 2028 میں جگہ بنانے کے لیے یہ ٹورنامنٹ جیتنا ضروری ہوگا۔
دوسری جانب خواتین کے ایونٹ کے لیے آسٹریلیا، بھارت، برطانیہ اور جنوبی افریقہ آئی سی سی رینکنگ اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی بنیاد پر براہِ راست کوالیفائی کر چکے ہیں۔
پاکستان ویمنز ٹیم براہِ راست کوالیفکیشن سے محروم ہو چکی ہے، اس لیے اب اسے 2027 میں ہونے والے آئی سی سی اولمپک کوالیفائر میں حصہ لینا ہوگا، جہاں فاتح ٹیم اولمپکس کی آخری نشست حاصل کرے گی۔
0 تبصرے