کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر رہنما فاروق ستار نے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کے لیے ایک انتظامی یونٹ قائم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2022ء میں پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان کراچی کی تعمیر و ترقی سے متعلق ایک معاہدہ ہوا تھا، جس پر بلاول بھٹو نے دستخط کیے تھے، مگر ایم کیو ایم کی جانب سے بارہا یاد دہانی کرانے کے باوجود اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
فاروق ستار نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ یہ ہمارا آخری معاہدہ ہے۔ ہم نے کوئی اختیار نہیں مانگا، وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے اپنا کردار ادا کریں، بصورت دیگر ایم کیو ایم احتجاج کرے گی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہمارے گورنر کو کیوں ہٹایا گیا؟ ہمیں اس کا جواب دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں لوٹ مار کا بازار گرم ہے، ہر شخص مشکلات کا شکار ہے اور شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
ایم کیو ایم کے رہنما نے کہا کہ اگر بلدیاتی قانون پر صحیح معنوں میں عمل کیا جاتا تو یہ مسئلہ حل ہو چکا ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ کوٹہ سسٹم کے خلاف ہماری جدوجہد جاری رہی ہے، لیکن آج بھی ہمیں اس کا 40 فیصد حصہ نہیں ملتا، جبکہ سندھ کے لوگوں کو کراچی اور حیدرآباد کے ڈومیسائل پر ہماری کوٹہ کے تحت نوکریاں دی جا رہی ہیں۔
فاروق ستار نے کہا کہ وفاق کو اپنا آئینی کردار ادا کرنا چاہیے، کیونکہ آئین اور قانون سے ہٹ کر حکومت چلائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں گورنر راج لگانے کی بات نہیں کر رہا، بلکہ ریفرنڈم کرایا جائے اور کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کے لیے ایک انتظامی یونٹ قائم کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب ہمارے سڑکوں پر نکلنے کا وقت آ گیا ہے، تیاریاں جاری ہیں۔ بعد میں کراچی کے عوام کو نہ روکا جائے، اگر روکنا ہے تو ابھی روک لیا جائے۔
0 تبصرے