ٹنڈو جام: سندھ زرعی یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کا وی سی سیکریٹریٹ کے سامنے دھرنا
ٹنڈو جام: سندھ زرعی یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کا وی سی سیکریٹریٹ کے سامنے دھرنا
سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں فیسوں میں 20 فیصد اضافے، شعبہ ہارٹیکلچر اور کیمپس سے درختوں کی کٹائی اور ہاسٹلز میں بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے خلاف طلبہ و طالبات نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے وائس چانسلر سیکریٹریٹ کے سامنے دھرنا دے دیا۔
احتجاج کی قیادت انعام جتوئی، اشفاق احمد کھوسو، ارسلان نظامانی، حسین انڑ، کامریڈ شازیہ جتوئی اور دیگر طلبہ و طالبات نے کی۔ مظاہرین نے ہاسٹل گیٹ سے احتجاجی ریلی نکالی، جو وائس چانسلر سیکریٹریٹ کے سامنے پہنچ کر دھرنے میں تبدیل ہوگئی۔ اس موقع پر طلبہ و طالبات نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فیسوں میں کیا گیا اضافہ واپس لے کر طلبہ کو ریلیف فراہم کیا جائے اور ہاسٹلز میں رہائش پذیر طلبہ کو بنیادی سہولیات مہیا کی جائیں۔
احتجاج کرنے والے طلبہ کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی میں فیسوں میں 20 فیصد اضافے سے طلبہ پر مزید مالی بوجھ پڑ رہا ہے، جس کے باعث بالخصوص محدود وسائل رکھنے والے خاندانوں کے طلبہ کے لیے تعلیم جاری رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فیسوں میں اضافے کے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے طلبہ کی مالی مشکلات کو مدنظر رکھا جائے۔
طلبہ و طالبات نے شعبہ ہارٹیکلچر اور یونیورسٹی کیمپس سے درختوں کی کٹائی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ درخت ماحول کو صاف اور خوشگوار رکھنے، گرمی کی شدت کم کرنے، ہوا کو صاف کرنے اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں درختوں کی کٹائی کے بجائے مزید پودے لگانے اور موجودہ درختوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے جائیں، کیونکہ درختوں کی کمی سے ماحولیاتی مسائل میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
مظاہرین کا مزید کہنا تھا کہ ہاسٹلز میں رہائش پذیر طلبہ کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا یونیورسٹی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، لہٰذا ہاسٹلز میں سہولیات کی کمی دور کرکے طلبہ کے لیے بہتر اور سازگار ماحول پیدا کیا جائے۔
احتجاج کرنے والے طلبہ و طالبات نے مطالبہ کیا کہ فیسوں میں 20 فیصد اضافے کا فیصلہ واپس لیا جائے، درختوں کی کٹائی روکی جائے، ماحولیاتی تحفظ یقینی بنایا جائے اور یونیورسٹی کے تمام ہاسٹلز میں بنیادی سہولیات فراہم کرکے طلبہ کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔