پانچ سال کے دوران غلط رخ پر کام کیا گیا، پریا کو جلد بازیاب کرایا جائے گا: ڈی آئی جی ناصر آفتاب

پانچ سال کے دوران غلط رخ پر کام کیا گیا، پریا کو جلد بازیاب کرایا جائے گا: ڈی آئی جی ناصر آفتاب

کراچی: سینیٹ کی اقلیتوں سے متعلق کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں پریا کماری کی بازیابی نہ ہونے پر پولیس سے سخت بازپرس کی گئی۔ اجلاس میں آئی جی سندھ غیر حاضر رہے، جبکہ ڈی آئی جی ناصر آفتاب کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور اراکین کے سوالات کے جوابات دیے۔ ڈی آئی جی ناصر آفتاب نے کہا کہ پریا کماری کے کیس کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس وقت بازیابی کے لیے کوئی مقررہ وقت نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اغوا کیس میں مشتبہ قرار دیے گئے فرید مہرانی گینگ کے دو افراد کو مار دیا گیا ہے، جبکہ تحقیقات مختلف پہلوؤں سے جاری ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران تفتیش غلط سمت میں چلتی رہی، تاہم اب ازسرِنو تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور درست سمت میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ ڈی آئی جی کے مطابق، “پریا کو جلد آزاد کرایا جائے گا”۔ اجلاس کے دوران اراکین پنجو بھیل اور شام سندر نے سوال اٹھایا کہ اگر پریا کماری قتل ہو چکی ہے تو اس بارے میں واضح طور پر بتایا جائے۔ اس پر ڈی آئی جی نے کہا کہ فی الحال کوئی منفی بات نہیں کی جا سکتی اور امید ہے کہ وہ جلد بازیاب ہو جائے گی۔ رپورٹس کے مطابق ڈی آئی جی نے مزید بتایا کہ ہر جے آئی ٹی اسی سمت میں کام کرتی رہی کہ پریا کماری کو فرید مہرانی نے اغوا کیا تھا، لیکن فرید مہرانی اور اس کے بھائی کے مارے جانے کے بعد یہ تفتیشی رخ غلط ثابت ہوا، جس کے بعد اب نئی تحقیقات جاری ہیں۔ سینیٹ کمیٹی نے کہا کہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے، ایک معصوم بچی پانچ سال سے لاپتہ ہے، مختلف اوقات میں بااثر افراد کے ملوث ہونے کے اشارے بھی ملے ہیں، لیکن یہ واضح کیا جائے کہ وہ کون ہیں۔ کمیٹی نے کہا کہ اس معاملے کو کسی بھی صورت ختم نہیں ہونے دیا جائے گا۔