کراچی (ویب ڈیسک): ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کراچی آزاد خان نے کہا ہے کہ شہر میں مؤثر پبلک ٹرانسپورٹ نظام نہ ہونے کے باعث کراچی میں 46 لاکھ موٹر سائیکلیں چل رہی ہیں۔
کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آزاد خان نے کہا کہ ہمارا خطہ دہشت گردی کے خطرات میں گھرا ہوا ہے، پولیس کو بھی مختلف نوعیت کے خطرات لاحق ہیں اور کچھ واقعات بھی پیش آئے ہیں، تاہم اس کے باوجود مجموعی طور پر شہر محفوظ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسٹریٹ کرائم پولیس کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جبکہ بھتہ خوری بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی بھکاریوں کے لیے ایک پرکشش شہر بن گیا ہے، کیونکہ یہاں انہیں لوگوں سے مدد اور خیرات مل جاتی ہے، اسی وجہ سے وہ اس شہر کا رخ کرتے ہیں۔
آزاد خان نے کہا کہ کراچی میں اب کوئی نو گو ایریا موجود نہیں، پولیس شہر کے ہر علاقے میں جا کر کارروائیاں کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ وارداتوں میں ملوث ایک گروہ کے خلاف کامیاب کارروائی کی گئی ہے، جبکہ کمیونٹی پولیسنگ کے فروغ اور منشیات کے خاتمے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ پولیس کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں سیف سٹی منصوبہ تاخیر کا شکار ہے، حالانکہ یہ منصوبہ شہر کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ منصوبے کے دوسرے مرحلے میں مزید 2 ہزار کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں، تاہم یہ تعداد شہر کی ضروریات کے مقابلے میں اب بھی کم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں ٹریفک انجینئرنگ اور سڑکوں کی دیکھ بھال کے مسائل بھی موجود ہیں، جبکہ مؤثر ماس ٹرانزٹ سسٹم نہ ہونے کے باعث شہر میں 46 لاکھ موٹر سائیکلیں زیرِ استعمال ہیں۔
0 تبصرے