سندھ حکومت کا گندم ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور محکمہ خوراک کی ڈیجیٹلائزیشن کا فیصلہ

سندھ حکومت کا گندم ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور محکمہ خوراک کی ڈیجیٹلائزیشن کا فیصلہ

کراچی (ویب ڈیسک): وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس میں سندھ کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں گندم کی موجودہ صورتحال، ذخیرہ اندوزی، محکمہ خوراک میں اصلاحات اور مجوزہ قومی گندم پالیسی 2026-2030 کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مالی سال 2026-27 کے دوران سندھ کو 15 لاکھ 90 ہزار ٹن گندم کی کمی کا سامنا ہوگا، جبکہ اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت سرکاری امدادی نرخ 3 ہزار 500 روپے فی 40 کلوگرام سے تجاوز کر چکی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے فلور ملز، تاجروں اور نجی شعبے سے وابستہ عناصر کی جانب سے مبینہ ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت کا سخت نوٹس لیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ آٹے کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور ہر صورت عوامی مفاد کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ اجلاس میں محکمہ خوراک کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔ سندھ حکومت نے "انٹیگریٹڈ ویٹ مینجمنٹ سسٹم" متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت گندم کی خریداری، ذخیرہ، ترسیل اور اجرا کے پورے نظام کو جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے منسلک کیا جائے گا۔ کابینہ نے سندھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی (SITC) کو اس منصوبے میں شامل کرنے کی سفارش کرتے ہوئے ایک ماہ کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ محکمہ خوراک کو جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ایک مؤثر ریگولیٹری ادارہ بنایا جائے، جو پالیسی سازی، نگرانی اور غذائی تحفظ پر خصوصی توجہ دے۔ اجلاس میں وفاق کی جانب سے تجویز کردہ قومی گندم پالیسی 2026-2030 کے مسودے پر بھی غور کیا گیا۔ اس پالیسی کا مقصد مارکیٹ پر مبنی نظام کو فروغ دینا، سبسڈی کے بوجھ میں کمی لانا، نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کرنا اور زرعی شعبے کو جدید مشینری اور معیاری بیجوں کے استعمال کے ذریعے ترقی دینا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اس پالیسی کا جائزہ لینے کے لیے سیکریٹری خوراک، سیکریٹری زراعت اور سیکریٹری قانون پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو اپنی سفارشات سندھ کابینہ کو پیش کرے گی۔