ٹورنٹو (پ ر): ایاز لطیف پلیجو نے سندھی ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکہ (سانا) کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی، بالخصوص سندھی، سندھ اور پاکستان کی ترقی، تعلیم، بہتر طرزِ حکمرانی، بین المذاہب اور بین الثقافتی ہم آہنگی، زراعت کی بحالی، قدرتی وسائل پر سندھ کے آئینی و قانونی حق کے تحفظ اور کرپشن کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں مقیم سندھی اپنی صلاحیتوں، تجربات اور وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے سندھ کے تعلیمی اداروں، لائبریریوں، اسکالرشپ پروگراموں، تحقیق، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی تربیت میں مؤثر تعاون کریں۔
ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سندھ کو شفاف، جوابدہ اور عوام دوست طرزِ حکمرانی کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق میرٹ، قانون کی حکمرانی، اداروں کی مضبوطی اور بدعنوانی کے خاتمے کے بغیر حقیقی ترقی ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی زراعت ہے، مگر ناقص پالیسیوں، پانی کی قلت، بدعنوانی اور وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم نے کسانوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جدید زرعی تحقیق، پانی کے بہتر انتظام، کسان دوست پالیسیوں اور بیرونِ ملک مقیم ماہرین کے تعاون سے زرعی شعبے کو دوبارہ مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
ایاز لطیف پلیجو کا کہنا تھا کہ سندھ کے پانی، زمین، معدنیات، تیل، گیس، کوئلے، سمندری وسائل اور دیگر قدرتی وسائل پر سب سے پہلا حق سندھ اور سندھ کے عوام کا ہے۔
0 تبصرے