اٹلانٹا (ویب ڈیسک): فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے راؤنڈ آف 32 میں آسٹریلیا کو شکست دینے کے بعد مصر کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے میدان میں فلسطین کا پرچم لہرا کر فلسطینی عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا، جسے سوشل میڈیا پر بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔
پری کوارٹر فائنل میں ارجنٹینا کے خلاف اہم مقابلے سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے حسام حسن نے اپنے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا، ’’جو شخص فلسطینی عوام کی تکلیف محسوس نہیں کرتا، وہ انسان ہی نہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ فلسطینی کھلے آسمان تلے اور خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جہاں انہیں خوراک کی قلت، بیماریوں اور دیگر سخت حالات کا سامنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک پوری قوم کو اس صورتحال میں تنہا چھوڑ دینا نہ صرف عرب دنیا بلکہ پوری دنیا اور فیصلہ سازوں کے لیے باعثِ شرم ہے۔
حسام حسن نے کہا کہ ہزاروں بچوں اور خواتین کی ہلاکت پر خاموش رہنا ممکن نہیں، اسی لیے انہوں نے فلسطین کا پرچم لہرا کر یکجہتی کا اظہار کیا۔
انہوں نے فیفا، کھلاڑیوں اور عالمی میڈیا سے اپیل کی کہ فٹبال کو فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جائے۔
اٹلانٹا میں ہونے والی پریس کانفرنس کے دوران ان کے بیان پر موجود متعدد صحافیوں نے تالیاں بجا کر ان کے مؤقف کو سراہا۔
دوسری جانب، فیفا نے واضح کیا ہے کہ آسٹریلیا کے خلاف مصر کی فتح کے بعد فلسطین کا پرچم لہرانا ٹورنامنٹ کے قواعد کی خلاف ورزی نہیں، کیونکہ فلسطین فیفا کی 211 رکن تنظیموں میں شامل ہے۔
فیفا نے مزید کہا کہ حسام حسن کا یہ اقدام ورلڈ کپ کے قواعد کے مطابق کسی ممنوعہ سیاسی مظاہرے کے زمرے میں نہیں آتا، اس لیے ان کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی جائے گی، تاہم اس فیصلے پر بعض اسرائیلی حلقوں نے تنقید بھی کی ہے۔
0 تبصرے